نئی دہلی۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہریانہ کے ہتھني کنڈ بیراج سے گزشتہ 40 برسوں میں سب سے زیادہ آٹھ لاکھ سے زیادہ کیوسک پانی جمنا میں چھوڑے جانے کے بعد دہلی اور ہریانہ میں دریاکے کنارے کے آس پاس کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اگلے 24 گھنٹے سنگین رہیں گے ۔اس دوران ہماچل پردیش ، پنجاب اور اتراکھنڈ سمیت پورے شمالی ہندوستان میں موسلا دھار بارش اور بادل پھٹنے کی وجہ سے سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ کے واقعات میں 42 لوگوں کی موت کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں بارش، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 313 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 47 دیگر لاپتہ ہیں۔ہریانہ کے ھتھني کنڈ بیراج سے اتوار کو 8.28 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ اس پانی کو دہلی پہنچنے میں 36 سے 72 گھنٹے لگیں گے ۔ اس طرح بدھ کی صبح جمنا کے پانی کی سطح کے اپنے زیادہ سے زیادہ سطح تک پہنچنے کا امکان ہے ۔