دہلی میں عوام کو تشدد کیلئے اکسانے کا اپوزیشن پر الزام

   

Ferty9 Clinic

کانگریس اور عام آدمی پارٹی معذرت خواہی کرے: پرکاش جائوڈیکر
نئی دہلی،یکم جنوری(سیاست ڈاٹ کام) اطلاعات و نشریات
کے مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے دہلی امور کے انچارج پرکاش جاوڈیکر نے بدھ کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے )کے خلاف دارالحکومت میں تشدد کے لئے عام آدمی پارٹی (آپ)اور کانگریس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیاں اس کے لئے عوام کے معافی مانگیں۔ مسٹر جاوڈیکر نے دہلی اسمبلی کے جلد ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کو پوری طاقت سے لڑنے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیتنے کا یقین ظاہر کرتے وہئے آج کہا کہ پارٹی مثبت ایجنڈے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی انتخابی مہم تین مسئلوں ‘سچ -بمقابلہ جھوٹ،ترقی بمقابلہ تباہی’اور ‘انارکی مخالفت بمقابلہ قوم پرستی ’پر مبنی ہوگی۔ دہلی انچارج نے کہا کہ سی اے اے کے سلسلے میں جھوٹی افواہ پھیلائی گئی۔مسلم طبقے کو گمراہ کرنے کے لئے کہاگیا کہ ان کی شہریت پر اثر پڑے گا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہب کی بنیاد پر استحصال جھیلنے کی وجہ سے ہندوستان آئے پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا قانون ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں قانون کی مخالفت کے نام پر پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچایاگیا۔آپ اور کانگریس نے تشدد کے سلسلے میں خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔دونوں ہی پارٹیاں اس تشدد کے لئے ذمہ دار ہیں اور انہیں اس حرکت کے لئے دہلی کے عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔مسٹر جاوڈیکر نے کہا کہ دہلی میں سی اے اے کے خلاف ہوئے مظاہروں میں تین مقامات جامعہ ،سیلم پور اور جامع مسجد علاقے میں تشدد ہوا۔جامعہ میں تشدد کے لئے اوکھلا کے آپ رکن اسمبلی امانت اللہ خان اور کانگریس لیڈر آصف خان نے مظاہرین کو بھڑکایا۔سیلم پور میں آپ کے ارشاد خان،کانگریس کے سابق رکن اسمبی متین احمد اور آپ کے کونسلر شامل رہے تو جامع مسجد میں محمود پاشاکا ہاتھ تشدد بھڑکانے میں رہا۔