نئی دہلی: تین خواتین سمیت کم از کم 13 افراد کو ایک فرضی کال سنٹر سے گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر قرض فراہم کرنے کے بہانے لوگوں کو دھوکہ دینے میں ملوث تھا۔ دہلی کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ یہ گروہ ہندوستان بھر میں لوگوں کو دھوکہ دینے میں ملوث تھا اور ملزمان اب تک لوگوں سے 2 کروڑ روپے کا دھوکہ کرچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گروہ مختلف خدمات فراہم کرنے والی سلیکھا ایپ پر بھی رجسٹرڈ تھا اور زیادہ ترکالز اسی ایپ کے ذریعے ہوتی تھیں۔ پولیس کے مطابق جمعرات کو منگل پوری کے علاقے میں کام کرنے والے جعلی کال سنٹر کے بارے میں مخصوص اطلاعات موصول ہوئیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولس ہریندر سنگھ نے کہا اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے ایک چھاپہ ماراگیا اور 13 لوگوں کو گرفتارکیاگیا۔ اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے 13 موبائل فون، ایک لیپ ٹاپ اور تین رجسٹرس بھی ضبط کیے ہیں۔ پوچھ گچھ پر یہ بات سامنے آئی کہ فرضی کال سنٹرکے مالک پونیت نے خود کو سلیکھا ایپ پر مہالکشمی فائنانس کے نام سے آن لائن موڈ کے ذریعے رجسٹرکیا تھا۔ ڈی سی پی نے کہا وہ اپنے موبائل پر سلیکھ ایپ کے ذریعے ان صارفین سے کال وصول کرتا تھا جو قرض لینا چاہتے تھے۔ سلیکھا ایپ سے موبائل نمبر حاصل کرنے کے بعد پونیت اپنے کارکنوں کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن کے ذریعے صارفین کوکال کرواتا تھا۔ ڈی سی پی نے کہا انہوں نے صارفین سے کم شرح سود پر قرض لینے پر اصرارکیا اور پروسیسنگ فیس اور فائل چارجزکے طور پر رقم وصول کر کے ان سے دھوکہ کیا۔ دو افراد پونیت اور راہول اس گینگ کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور وہ پچھلے دو سالوں سے جعلی کاروباری قرض اور ذاتی قرض فراہم کرکے لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے۔ پولیس افسر نے مزید کہا انہوں نے جعلی بینک اکاؤنٹس بھی کھولے ہیں اور دھوکہ دہی کے لیے مختلف جعلی سم کارڈزکا استعمال کیا ہے۔
