قاتلوں کو پھانسی کا مطالبہ،بانسواڑہ ، بودھن اور نظام آباد میں ریالیاں، مرکز سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد۔/5 ستمبر، ( سیاست نیوز) نئی دہلی میں مسلم خاتون پولیس عہدیدار صابیہ سیفی کے انسانیت سوز قتل کے واقعہ کے خلاف تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں عوامی احتجاج کا آغاز ہوچکا ہے۔ ضلع کاماریڈی کے بانسواڑہ میں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت موم بتی ریالی کا اہتمام کرتے ہوئے سیفی کے قاتلوں کو سزاء کا مطالبہ کیا۔ صابیہ سیفی کے افراد خاندان کو انصاف دلانے کیلئے سوشیل میڈیا پر بھی مہم شدت اختیار کرچکی ہے۔ تلنگانہ میں نئی دہلی کے اس بدبختانہ واقعہ کے خلاف سب سے پہلا احتجاج بانسواڑہ میں منظم کیا گیا۔ مقامی سیاسی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ نوجوانوں سید شعیب ہاشمی، سید شعیب منصور، سید عظیم، شیخ رئیس، فاروق خاں اور عبدالعلی کی قیادت میں نوجوانوں نے اندرا گاندھی چوک سے امبیڈکر چوک تک ریالی منظم کی۔ احتجاجیوں کے ہاتھ میں موم بتیاں تھیں اور وہ سیفی کے قاتلوں کو پھانسی کا مطالبہ کرتے ہوئے بیانرس اور پوسٹرس تھامے ہوئے تھے۔ احتجاج کی خاص بات یہ رہی کہ دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی اس میں شامل ہوگئے اور مسلم خاتون پولیس عہدیدار کے ساتھ عصمت ریزی و قتل کی مذمت کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ بانسواڑہ کے اس احتجاج کی سیاسی جماعتوں نے بھی تائید کی ہے۔ احتجاجی نوجوانوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صابیہ سیفی کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دی جائے۔ نوجوانوں نے بانسواڑہ کی نمائندگی کرنے والے اسپیکر اسمبلی پوچارام سرینواس ریڈی کے ذریعہ مرکز کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی نوجوان اس سلسلہ میں اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں مرکز سے نمائندگی کی اپیل کریں گے۔ نرمل اور نظام آباد کے علاوہ کئی دیگر ٹاؤنس میں بھی صابیہ سیفی کے قتل کے خلاف احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں۔ نئی دہلی میں لاء اینڈ آرڈر چونکہ مرکزی حکومت کے تحت ہے لہذا مرکزی وزارت داخلہ اور وزیر اعظم دفتر کو نمائندگی روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حیدرآباد کے بعض علاقوں میں نوجوانوں نے اپنے طور پر احتجاج منظم کیا۔R