بی جے پی کی شکست کیلئے ووٹوں کی تقسیم سے گریز، پرانی دہلی کے بعض مقامات پر فیصلہ کن تعداد
نئی دہلی 7 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی اسمبلی کے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات فرقہ وارانہ صف بندی کے درمیان منعقد ہورہے ہیں جہاں تین رخی مقابلہ میں 25 لاکھ مسلم ووٹرس کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ وہ بی جے پی کو اقتدار سے باہر رکھنا چاہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس مقصد کے لئے اُنھیں حکمراں عام آدمی پارٹی (عاپ) یا کانگریس کے مابین کسی ایک کو منتخب کرنا ہوگا لیکن ان انتخابات میں چیف منسٹر اروند کجریوال کی جماعت عاپ کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ جس کو گزشتہ انتخابات میں 70 کے منجملہ 67 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ ابو افضل انکلیو اور چوہان بانگر، ذاکر نگر، جامع مسجد، سیتارام بازار جیسے علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی 83 تا 70 فیصد ہے جبکہ بلی ماران، مصطفیٰ آباد، دہلی گیٹ، نہرو ویہار، کاروم پورم میں 63 تا 48 فیصد ہے۔ مصطفیٰ آباد میں ایک بزرگ ووٹر نے کہاکہ ’میں اب تک ہمیشہ ہی کانگریس کو ووٹ دیتا رہا ہوں۔ سب کا اپنا رجحان ہوتا ہے۔ ان کے پڑوسی عام آدمی پارٹی کو منتخب کرنا چاہتے ہیں۔ پولنگ بوتھ میں کسی کو منتخب کرنا دشوار ہوتا ہے۔ انگلی ڈگمگا جاتی ہے‘۔ اس علاقہ کی سڑکوں پر دو بچے موٹر سیکل پر کانگریس کی تائید میں مہم چلاتے گزر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ہی کے والد حسن احمد نے یہاں سڑکیں تعمیر کروایا تھا اور قریب ہی قبرستان بھی بنایا تھا۔ ووٹرس کو چاہئے کہ وہ یکطرفہ ووٹنگ کریں کیوں کہ گزشتہ انتخابات میں کانگریس کو 52,357 اور عاپ کو 49,791 ووٹ ملے تھے۔ اس طرح بی جے پی امیدوار نے 58,388 حاصل کرتے ہوئے کامیابی درج کی تھی۔ سی اے اے ۔ این آر سی کے خلاف مزاحمت میں کانگریس اگرچہ مسلمانوں کی دفاع میں اُتر آئی لیکن عام آدمی پارٹی نے خود کو اس مسئلہ سے دور ہی رکھا۔ دیگر محلہ جات کے مسلمانوں نے بھی کہا ہے کہ ماضی میں اگرچہ وہ کانگریس کو ووٹ دیتے رہے ہیں لیکن اس مرتبہ اروند کجریوال کی پارٹی کو ووٹ دیں گے۔
