دہلی میں گرمی سے 2 روز میں 52 اموات

,

   

شدید گرمی کا 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا‘ شمشان میں بھی نعشیں دوگنی ہوگئیں

نئی دہلی: دارالحکومت دہلی میں شدید گرمی اور لو لگنے کے باعث 2 روز میں 52 اموات ہوئی ہیں اور دہلی میں شدید گرمی کا 50 سالہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 11 سے19 جون کے دوران شدید گرمی لی لہر میں 192 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی میںگرمی کی لہرکے باعث 2 روز میں 52 اموات ہوئی ہیں جبکہ 11 سے 19 جون کے دوران ہیٹ ویو سے نئی دہلی میں 192 بے گھر افراد ہلاک ہوئے۔ ملک کے شمالی حصوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ چند دن قبل خاتون اینکر ہیٹ ویو کی خبر پڑھتے ہوئے خود بے ہوش ہوگئی تھیں۔ میڈیا کا کہنا ہیکہ ملک میں رواں موسم گرما میں ہیٹ اسٹروک کے 40 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے اور یکم مارچ سے 18 جون کے درمیان کم از کم 110 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ موسمیات نے رواں ماہ معمول سے کئی گنا زیادہ درجہ حرارت ہونے کی پیش گوئی کی ہے جب کہ نئی دہلی میں چہارشنبہ کو 50 سال میں سب سے زیادہ گرم ترین رات تھی۔ دوسری طرف دہلی کے شمشان گھاٹ نگم بودھ گھاٹ پر روزانہ آنے والی لاشوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جہاں ایک طرف روزانہ 50 سے 60 نعشیںگھاٹ پہنچتی تھیں وہیں دوسری طرف پچھلے دو دنوں میں یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ نگم بودھ گھاٹ انتظامیہ کے مطابق 19 جون کو تقریباً 142نعشیں دہلی سے نگم بودھ گھاٹ پہنچی تھیںجبکہ 18 جون کو تقریباً 90 نعشیں لائی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ اس بار یکم سے 19 جون تک تقریباً 1100 نعشیں پہنچی ہیں۔ کووڈ کے دوران جون کے مہینے میں نعشوںکی تعداد 1500 تھی۔ اس مہینے میں ابھی 10 دن باقی ہیں اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو کووڈ کے اعداد و شمار کی برابری ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک کی تاریخ میں کووڈ کے دوران ایک ہی دن میں نگم بودھ گھاٹ پر آخری رسومات کے لیے سب سے زیادہ 253 لاشیں لانے کا ریکارڈ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چلچلاتی گرمی کی وجہ سے نہ صرف دہلی بلکہ پورے این سی آر میں لوگوں کی حالت تشویشناک ہے۔