آئمہ کرام و بیواوں کے وظائف کی اجرائی بھی تعطل کا شکار ۔ مجاز عہدیدار کی عدم موجودگی سے سنگین مسائل
نئی دہلی ۔ عوامی کاز کیلئے کسی بھی حد تک جانے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا ادعا کرنے والی دہلی کی اروند کجریوال حکومت ریاستی وقف بورڈ کے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی میں مسلسل لاپرواہی برت رہی ہے جس کے نتیجہ میں دہلی وقف بورڈ میں کام کرنے والے تقریبا 125 ملازمین ان دنوں اپنے گذارہ کیلئے مسلسل قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں ۔ کئی ملازمین صرف دو وقت کے کھانے کیلئے محتاج ہوگئے ہیں اور اپنے اور اہل خانہ کے علاج کو بھی جاری رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ دہلی وقف بورڈ کے 125 ملازمین میں 25 مستقل ملازم ہیں جبکہ 100 کے قریب کنٹراکٹ ملازمین ہیں۔ ان تمام ملازمین کو گذشتہ آٹھ مہینوں سے تنخواہ نہیں مل پائی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ دہلی وقف بورڈ میں فنڈز کی کوئی قلت ہے ۔ وقف بورڈ کے پاس 9 کروڑ روپئے کی رقم موجود ہے لیکن رقم کی اجرائی کیلئے مجاز عہدیدار دستیاب نہیں ہے ۔ وقف بورڈ کے مستقل سی ای او کی عدم دستیابی کی وجہ سے رقومات کی منتقلی یا اجرائی ممکن نہیں ہو پا رہی ہے ۔ اس وجہ سے ملازمین اب دانے دانے کو محتاج ہونے لگے ہیں۔ نہ صرف ملازمین بلکہ جن 250 آئمہ کرام اور جن 1200 بیواوں کو ماہانہ وظائف دہلی وقف بورڈ سے جاری کئے جاتے ہیں انہیں بھی آٹھ مہینے سے وظائف کی اجرائی رکی ہوئی ہے ۔ وجہ یہی ہے کہ دستخط کرنے کے مجاز عہدیدار دستیاب نہیں ہیں اور حکومت اس جانب توجہ کرکے فوری کسی عہدیدار کا تقرر کرنے یا متبادل انتظام کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہے ۔ سی ای او کی عدم موجودگی میں صدر نشین وقف بورڈ بھی دستخط کرسکتے ہیں لیکن صدر نشین وقف بورڈ امانت اللہ خان رکن اسمبلی کی صدر نشین کی حیثیت سے معیاد ختم ہوگئی ہے ۔ انہیں دوبارہ منتخبہ نمائندہ کوٹہ سے وقف بورڈ کا رکن نامزد کردیا گیا ہے لیکن اس کیلئے باضابطہ گزٹ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے وہ بھی رقومات کی اجرائی پر دستخط کرنے کے مجاز نہیں رہ گئے ہیں۔ دہلی وقف بورڈ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پوری محنت اور دیانتداری سے اپنا فریضہ نبھایا ہے لیکن ان کی تنخواہوں کے مسئلہ پر حکومت لاپرواہی والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے ۔ تنخواہوں کی عدم اجرائی کی وجہ سے وہ لوگ قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور ضروری علاج تک بھی نہیں کرواپا رہے ہیں۔ ان ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب توجہ کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں کی اجرائی کو یقینی بنایا جائے ۔ وقف بورڈ کے 100 کنٹراکٹ ملازمین میں تقریبا 70 کا کنٹراکٹ ختم بھی ہوچکا ہے لیکن وہ بھی تنخواہوں سے محروم ہیں۔
