دہلی کو بڑے دہشت گرد حملے سے بچایاگیا، دو افراد گرفتار

   

اترپردیش اے ٹی ایس اور انٹلی جنس بیورو کی مشترکہ کارروائی، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر شبہ

ہاپوڑ/میرٹھ، 19 مارچ (یو این آئی) اتر پردیش اینٹی ٹیررزم اسکواڈ (اے ٹی ایس) اور انٹلی جنس بیورو کی مشترکہ کارروائی میں دارالحکومت نئی دہلی میں ممکنہ بڑے دہشت گردانہ حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ اس سلسلے میں دو مشتبہ افراد عظیم رانا (ہاپوڑ کے دھولانہ علاقے سے ) اور اس کے بھتیجہ آزاد علی (میرٹھ سے ) کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ حکام کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان گزشتہ چھ ماہ سے شہزاد بھٹی نامی ایک بدنام گینگسٹر کے رابطے میں تھے ، جس کے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہندستانی نوجوانوں کو ورغلا کر دہشت گرد سرگرمیوں میں شامل کرتا تھا۔ عظیم رانا کو مبینہ طور پر دہلی کے اہم ہندو مندروں کی جاسوسی کرنے اور ویڈیوز بھیجنے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس نے نوئیڈا سمیت قریبی علاقوں کی ویڈیوز بھی شیئر کیں، جس سے اندازہ ہے کہ دارالحکومت میں حملے کی بڑی سازش تیار کی جا رہی تھی۔ مزید یہ کہ شہزاد بھٹی نے رانا کو پنجاب جا کر ایک پارسل لینے اور پہنچانے کی ہدایت دی تھی، جس کے بدلے بڑی رقم دی جانی تھی۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ اس پارسل میں آر ڈی ایکس جیسے دھماکہ خیز مواد شامل ہو سکتے تھے ۔ یہ شبہ 14 مارچ 2026 کے ایک الگ کیس کے بعد مزید مضبوط ہوا، جب امبالہ میں تین افراد کو تقریباً دو کلو آر ڈی ایکس کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا، جن کے بھی اسی نیٹ ورک سے جڑے ہونے کا امکان ہے ۔ اگرچہ رانا نے پارسل پہنچانے کا کام انجام نہیں دیا، لیکن اس کے موبائل فون کی فارنسک جانچ میں حذف شدہ ڈیٹا، بشمول ویڈیو کال ریکارڈنگ برآمد کر لی گئیں۔ ان ریکارڈنگز میں ملزمان اور بھٹی کے درمیان گفتگو سامنے آئی، جس میں انہوں نے لارنس بشنوئی کا ذکر کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی پر زور دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آزاد علی نے واٹس ایپ کے ذریعے رانا کو ایسے افراد سے دور رہنے کا مشورہ بھی دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ لوگ اپنے مفاد کے لیے دوسروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ پیغام بھی اب تحقیقات کا حصہ ہے ۔ گرفتاری سے قبل ملزمان نے اپنے موبائل فونز سے اہم شواہد مٹانے کی کوشش کی، تاہم فارنسک ماہرین نے ڈیٹا بحال کر کے پاکستان میں موجود رابطوں کو حساس معلومات بھیجنے کی تصدیق کر لی۔

ہاپڑ کے ایس پی گیانانجے سنگھ کے مطابق دستیاب شواہد ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور دہلی پولیس سمیت دیگر ایجنسیاں مزید تفتیش میں مصروف ہیں۔

سکیورٹی ایجنسیاں اب اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے سرگرم ہیں۔