نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو دہلی میں جھگی بستیوں کی خراب حالت کیلئے عام آدمی پارٹی اور کانگریس کی پچھلی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ان کچی بستیوں کو بہتر بنانے کیلئے 700 کروڑ روپے کا انتظام کیا ہے ۔ انہوں نے سی اے جی رپورٹ میں سامنے آنے والی بدعنوانی اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر کروڑوں روپے کے خرچ کے حوالہ سے پچھلی کجریوال حکومت کی سخت تنقید کی اور کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی اے اے پی حکومت کے دور میں ہوئے گھپلوں کی حد کا پتہ چلے گا۔ ٹائمز نٹ ورک کے زیر اہتمام ایک مباحثہ سیشن میں وزیر اعلیٰ گپتا نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہلی کی کچی بستیوں میں خواتین اب بھی کھلے میں نہانے پر مجبور ہیں، کچی بستیوں میں نہ بیت الخلا کی سہولت ہے ، نہ پارکس اور نہ ہی بچوں کے کھیلنے کیلئے بنیادی سہولیات۔ کانگریس نے صرف ان کچی بستیوں کو نام دیا، لیکن ان کی ترقی کے نام پر کچھ نہیں کیا اور آج اے اے پی نے بھی انہیں صرف ووٹ بنک سمجھ کر چھوڑ دیا ہے ۔گپتا نے واضح کیا کہ ان کی حکومت کچی آبادیوں کیلئے 700 کروڑ روپے کا بجٹ لائی ہے تاکہ ان بستیوں میں بھی بنیادی سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ پچھلی حکومت کے تعلیمی ماڈل پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اے اے پی حکومت چند چنندہ اسکولوں پر کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنی شبیہ کو چمکاتی رہی۔
جب کہ باقی سرکاری اسکولوں کی حالت اب بھی بدتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت میں حکومت ایک بچے کی تعلیم پر 60,000 روپے اور خصوصی اسکول میں پڑھنے والے پر 2,50,000 روپے خرچ کرتی تھی۔ انہوں نے اسے ایک ایسا نظام قرار دیا جو بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے ۔