دہلی کے ایل جی کو سپریم کورٹ سے پھٹکار’کیا آپ خود کو عدالت سمجھتے ہیں!‘

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) وی کے سکسینہ کو اس بات کے لئے سخت پھٹکار لگائی کہ انہوں نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کی درخواست عدالت میں زیر التوا ہونے کے باوجود مناسب غور و فکر کیے بغیر ریج کے محفوظ علاقہ میں درختوں کو کاٹنے کی منظوری دے دی۔ جسٹس ابھے ایس اوکا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر درخت کاٹنے کے لیفٹیننٹ گورنر کے اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔سپریم کورٹ سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے لیے ریج فاریسٹ میں 1100 درختوں کی کٹائی پر ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین کے خلاف از خود توہین عدالت کی کارروائی کی سماعت کر رہا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں لیفٹیننٹ گورنر کے ملوث ہونے کو چھپانے کی کوششوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اسے سماعت کے پہلے ہی دن بتا دیا جانا چاہیے تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے پہلے ہی درختوں کی کٹائی کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے پوری طرح سے صوابدید کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے فرض کر لیا کہ دہلی حکومت کے پاس ٹری آفیسر کا اختیار ہے۔ بنچ نے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ سے سخت لہجے میں پوچھا کہ کیا وہ خود کو عدالت سمجھتے ہیں؟ اس کے علاوہ اس نے یہ بھی پوچھا کہ کیا ڈی ڈی اے حکام نے انہیں مطلع کیا تھا کہ درختوں کو کاٹنے کے لیے عدالت عظمیٰ سے اجازت لینا ضروری ہے؟ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ وی کے سکسینہ سمیت تمام متعلقہ فریقوں نے غلطیاں کی ہیں اور عدالت میں وضاحت کیلئے آنے کے بجائے ان غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ درختوں کی کٹائی کرنے والے ٹھیکیدار کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ عدالت کو بتائے کہ اس نے یہ کارروائی کس کی ہدایت پر کی؟ عام آدمی پارٹی نے الزام لگایا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر ڈی ڈی اے نے جنوبی ریج کے علاقے میں تقریباً 1100 درخت ڈاٹ ڈالے ہیں۔

بنچ نے کہا کہ ہم اس حقیقت سے پریشان ہیں کہ سب نے غلطی کی ہے۔ پہلے دن سب کو عدالت میں آ کر کہنا چاہیے تھا کہ ہم سے غلطی ہوئی لیکن پردہ پوشی کا سلسلہ جاری رہا۔ چار پانچ احکامات کے بعد ڈی ڈی اے افسر کے حلفیہ بیان کے بعد حقیقت سامنے آتی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر سمیت ہر کسی نے غلطی کی ہے۔