دہلی کے قریب احتجاجی مقامات پر کسانوں کی آمد کا سلسلہ جاری

   

متنازعہ قوانین کی تنسیخ کا اعلان اور وزیراعظم کی کسانوں سے گھروں کو واپسی کی اپیل بے اثر

چندی گڑھ : دہلی کی سرحدوں میں کسانوں کے زبردست مظاہرے کو ایک سال ہوچکا ہے اور اُن کے ایجنڈے میں شامل نمایاں مطالبہ کی تکمیل بھی ہوگئی لیکن دارالحکومت کی سرحدوں پر احتجاجی مراکز میں سرگرمیاں ماند نہیں پڑی ہیں بلکہ مختلف شمالی ریاستوں سے کسانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب اور ہریانہ سے مزید کسان ریل اور سڑک کے راستے دہلی کے قریب سنگھو اور ٹیکری سرحدوں کے لئے روانہ ہورہے ہیں۔ کسانوں کی نمایاں یونین نے دہلی سرحد سے قریب احتجاج کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر جمعہ کو مہا پنچایت کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے۔ 19 نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک اعلان کیا تھا کہ 3 متنازعہ زرعی قوانین واپس لئے جائیں گے اور مرکزی مابینہ نے اِس سلسلہ میں بل کو منظوری بھی دے دی ہے جسے اب پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ تاہم، کسانوں نے تبھی کہہ دیا تھا کہ جب تک متنازعہ قوانین کی باقاعدہ تنسیخ نہیں ہوجاتی اور دیگر مطالبات کی بھی تکمیل نہیں ہوجاتی، اُن کا احتجاج ختم نہیں ہوگا۔ اتوار کو سمیوکت کسان مورچہ جو جاریہ احتجاج کی سرپرستی کرنے والا کسان یونینوں کا گروپ ہے، اُس نے وزیراعظم مودی کو کھلا مکتوب تحریر کرتے ہوئے 6 یکسوئی طلب مطالبات کے تعلق سے حکومت کے ساتھ بات چیت کے فوری احیاء پر زور دیا ہے۔ اِن مطالبات میں تمام کسانوں کے لئے اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت دینے والا قانون شامل ہے۔ کسان یونینوں کے اجتماعی ادارہ نے کسانوں کے خلاف درج مقدمات سے دستبرداری بھی چاہی ہے اور اُن کا مطالبہ ہے کہ اُن احتجاجیوں کے لئے ایک یادگار تعمیر کی جائے جو 3 متنازعہ مرکزی زرعی قوانین کے خلاف ایجی ٹیشن کے دوران اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ اجتماعی گروپ کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ ہوا کے معیار میں ابتری یا دہلی میں آلودگی کے لئے مختلف عنوانات سے کسانوں پر جو جرمانے عائد کئے گئے ہیں، اُس سے دستبرداری اختیار کی جائے۔ نیز مرکزی مملکتی وزیرداخلہ اجئے مشرا کو برطرف کرکے گرفتار کیا جائے، جس کا بیٹا لکھم پور کھیری تشدد کیس کا کلیدی ملزم ہے۔ اتوار کی ایک میٹنگ میں کسانوں کے ایک گروپ نے آنے والے سلسلہ وار پروگراموں کے بارے میں بھی فیصلے کئے جن میں 29 نومبر کو پارلیمنٹ تک مارچ شامل ہے جبکہ سرمائی سیشن کے لئے دونوں ایوان کے اجلاس منعقد ہوں گے۔ ہزاروں کسان گزشتہ سال نومبر سے نئی دہلی کی سرحدوں پر مختلف مطالبات کے ساتھ احتجاجاً کیمپ کئے ہوئے ہیں۔