کوویڈ ۔ 19 کی تیسری لہر خارج ازامکان نہیں۔ آلودگی کی شکایات سے نمٹنے کیلئے چیف منسٹر کجریوال نے کیا ایپ کا آغاز
نئی دہلی: قومی دارالحکومت دہلی کے لوگ دوہری مار جھیل رہے ہیں۔ ایک تو آب و ہوا میں آلودگی کا ’زہر‘ گھلا ہوا ہے تودوسری طرف جان لیوا کورونا وائرس کے ہر روز ریکارڈ توڑ نئے معاملے سامنے آرہے ہیں۔ دارالحکومت کی ہوا کے معیار کی سطح ایک بار پھر ’بہت خراب‘ زمرے سے بڑھکر ’شدید خراب حالت‘ میں پہنچ گئی ہے۔ دارالحکومت میں ہوا کے معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) کی سطح 400 کو پار کرگئی ہے جو سب سے زیادہ خراب زمرہ مانا جاتا ہے۔ دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کے آج جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق صبح علی پور میں اے کیو آئی 405 تو آنند وہار میں یہ سطح 401 درج کی گئی۔ وزیرپور میں یہ 410 تھی۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے مطابق جہانگیر پوری میں اے کیو آئی کی سطح 420 درج کی گئی۔ دریں اثناء دہلی میں چہارشنبہ کی شام کورونا کے ریکارڈ 5673 نئے معاملے سامنے آئے۔ دارالحکومت میں کورونا وائرس کے ریکارڈ توڑ نئے معاملے اور آب و ہوا کے بری طرح آلودہ ہونے کے پیش نظر دہلی حکومت نے اسکولوں کو ابھی نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیر تعلیم منیش سیسوڈیا نے گزشتہ روز کو نامہ نگاروں کو یہ اطلاع دی۔ گزشتہ حکمنامہ میں 31 اکتوبر تک اسکول بند کئے گئے تھے اور اب اگلے حکم تک یہ بند رہیں گے ۔ جمعرات کو وزیر صحت ستیندر جین نے کہاکہ قومی دارالحکومت میں کورونا کے یکایک ریکارڈ کیسیس سے ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہوچکی ہے لیکن اُنھوں نے واضح کردیا کہ اِس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی نے ستیندر جین کے حوالہ سے کہاکہ مزید ایک ہفتہ انتظار کرنا ہوگا جس کے بعد ہی کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ یا نئی لہر کے تعلق سے قطعیت سے کچھ کہا جاسکے گا۔ اِس دوران چیف منسٹر کجریوال نے ’گرین دہلی‘ کے نام سے موبائیل اپلیکیشن کا آغاز کیا جسے استعمال کرتے ہوئے شہری آلودگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے بارے میں حکومت کو واقف کراسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ حکومت آلودگی کے خلاف لڑائی میں ہر کسی کو شامل کرنا چاہتی ہے کیوں کہ عوام کی تائید و حمایت کے بغیر کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ شہریان دہلی آلودگی کا سبب بننے والی سرگرمیوں کی تصاویر لے سکتے ہیں اور ویڈیو بھی بناسکتے ہیں جیسا کہ کچرے کے انبار، صنعتی آلودگی، گرد و غبار وغیرہ اور اِن کو گرین دہلی ایپ پر اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ نیا ایپ متعلقہ مقام کی شناخت کرے گا اور شکایت خود بخود متعلقہ محکمے سے رجوع کردی جائے گی جو تیزی سے اقدام کرے گا۔ کجریوال نے بتایا کہ یہ ایپ گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ دہلی سکریٹریٹ میں گرین وار روم بھی بنایا گیا ہے۔
