نئی دہلی11جون (سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے کہا کہ دہلی میں کورونا سے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں اور یہ اب قابو سے باہر ہوگئے ہیں اسلئے اسپتالوں کو شفافیت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کو اس سلسلے میں تفصیلی اور جامع منصوبہ بنانا چاہیے ۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی اور دہلی کانگریس صدر انل چودھری نے جمعرات کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت کو کورونا سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ دہلی میں کورونا خطرناک حالت میں پہنچ چکا ہے اور اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور متاثرین کو کہیں بھی بیڈ نہیں مل رہے ہیں اسلئے اسپتال میں کورونا مریضوں کی تعداد کیا ہے اس سلسلے میں معلومات دی جانی چاہیے اور یہ اطلاع مسلسل اسپتالوں کے نوٹس بورڈ پر آنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں کئی اسپتال ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ 57 ہزار بیڈ دہلی کے اسپتالوں میں موجود ہیں لیکن 09 جون کو ملی اطلاعات کے مطابق 12 فیصد دہلی حکومت کے ، آٹھ فیصد مرکزی حکومت کے اور سات فیصد بیڈپرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لئے محفوظ ہیں لیکن مسلسل شکایتیں آرہی ہیں کہ کورونا مریضوں کو بیڈ نہیں مل رہے ہیں اور لوگوں کو واپس بھیجا جارہا ہے ۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے اسے سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مریضوں کے لئے کوئی بستر نہیں ہے ، تو یہ ایک انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے ۔ترجمان نے کہا کہ ہسپتالوں کے تمام زمروں کے اسپتالوں میں کم از کم 70 فیصد بیڈ محفوظ ہونے چاہئے ۔ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ جون اور جولائی میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دہلی میں بہت زیادہ ہو جائے گی تو حکومت کو خود اپنے ہی بیان پر توجہ دینی چاہئے اور دہلی میں کورونا مریضوں کے لئے علاج کی سہولیات بڑھائی جانی چاہیے ۔ انہوں نے حکومت سے کورونا کی جانچ کو بڑھائے جانے کا بھی مطالبہ کیا ۔