دینی تعلیمی اداروں میں بھی آن لائن تعلیمی کلاسیس

,

   

امت مسلمہ کو دینی بچوں کو اسمارٹ فون و عصری سہولتیں فراہم کرنے کا مشورہ ، مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین و مولانا رحیم الدین انصاری کا بیان
حیدرآباد۔ دینی مدارس بھی کسی عصری تعلیمی ادارہ سے کم نہیں ہیں اور نہ ہی وہ سلسلۂ تعلیم کو ترک کئے ہوئے ہیں بلکہ دینی مدارس کی جانب سے آن لائن کلاسس کا آغاز کردیا گیا ہے جس سے نہ صرف مدرسہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ مستفید ہورہے ہیں بلکہ دینی علوم میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کی جانب سے بھی ان آن لائن کلاسس سے استفادہ حاصل کیا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد میں موجود سرکردہ دینی تعلیمی اداروں اور جامعات کی جانب سے آن لائن تعلیم کے نظام کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن اضلاع میں رہنے والے اور طلبہ اور ایسے طلبہ جن کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے اور جو اسمارٹ فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان طلبہ کے لئے مسائل پیدا ہونے لگے ہیں کیونکہ ایسے طلبہ آن لائن مدرسین سے رسائی کے متحمل نہیں ہوپا رہے ہیں اور وہ اسباق پر توجہ دینے کے موقف میں ہیں ۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ ‘ جامعہ نظامیہ نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ نے شوال المکرم کے اواخر سے ہی جامعہ نظامیہ کے طلبہ کیلئے آن لائن طرز تعلیم کا آغاز کردیا ہے اور جو طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں وہ اپنے نصاب سے رابطہ میں رہتے ہوئے اسباق یاد کرنے لگے ہیں۔ جامعہ نظامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو آن لائن طرز تعلیم کی فراہمی کیلئے اساتذہ کیلئے تمام تکنیکی سہولتو ںکی فراہمی کے اقدامات کئے جاچکے ہیں اور اساتذہ ان عصری سہولتوں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے طلبہ کو درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے لگے ہیں۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین نے بتایا کہ امت مسلمہ کو دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے ان بچوں کو اسمارٹ فون اور عصری سہولت کی فراہمی کے متعلق غور کرنا چاہئے جن کی استطاعت نہیں ہے کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کرسکیں۔ مولانا محمدرحیم الدین انصاری نے بتایا کہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد میں بھی آن لائن کلاسس کا آغاز کردیا گیا ہے اور باضابطہ کلاسس کے انعقاد کا مقصد طلبہ کو دینی علوم سے دور ہونے سے روکنا ہے۔

انہو ںنے بتایا کہ ملک کے سرکردہ دینی تعلیمی ادارو ںمیں داخلوں کا نظم نہ ہونے کے سبب مقامی اور پڑوسی ریاستوں کے طلبہ کا رخ شہر حیدرآباد کے دینی مدارس کی طرف ہونے لگا ہے اور ان حالات میں دینی مدارس کی کشادگی ایک اہم مسئلہ ہے اسی لئے آن لائن درس و تدریس کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری نے بتایا کہ مدرسۂ سبیل الفلاح میں برائے نام آن لائن دینی تعلیم کا آغاز کیا گیا ہے کیونکہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے اور وہ جماعت کے نظام تعلیم میں ہی ممکن ہے اسی لئے طلبہ کو نصاب سے جوڑے رکھنے کیلئے آن لائن کلاسس چلائی جا رہی ہیں۔ مولانا مفتی عمر عابدین مدنی نے بتایا کہ المعہد الدینیہ الاسلامیہ میں آن لائن دینی تعلیم کا نظام رائج کیا جاچکا ہے اور شوال المکرم کے اواخر سے ہی آن لائن کلاسس چلائی جا رہی ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں جماعت کے نظام تعلیم کی گنجائش نہ ہونے کے سبب آن لائن نظام تعلیم کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ممکنہ حد تک دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے سلسلہ ٔ تعلیم کو جاری رکھا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ اپنے درس و تدریس کے عمل سے جڑے رہیں۔ مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی نے دارالعلوم رحمانیہ میں آن لائن دینی تعلیم کے نظام کے سلسلہ میں بتایا کہ محدود جماعتوں کے ساتھ یہ عمل شروع کیا گیا ہے لیکن اس طرز تعلیم کے نقائص کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے اور ان کوتاہیوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ذمہ داران مدارس دینیہ کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مدارس میں فراہم کی جانے والی شخصی توجہ کے ساتھ تعلیم کو یقینی بنایا جائے ۔