مدارس کو بدنام کرنے کی سازش، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا ردعمل
حیدرآباد۔/11ستمبر، ( سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ بعض ریاستی حکومتوں کی جانب سے دینی مدارس کے سروے کا جو شوشہ چھوڑا گیا ہے وہ دراصل مدارس کو بدنام کرنے اور برادران وطن کے درمیان انہیں مشکوک اور مشتبہ بنانے کی ایک گھناؤنی اور ناپاک سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کی ایک روشن تاریخ رہی ہے جہاں کردار سازی اور اخلاقی تربیت کا 24 گھنٹے اہتمام کیا جاتا ہے۔ مدارس کے طلباء اور اساتذہ نے کبھی بھی دہشت گردی اور فرقہ وارانہ منافرت کا کام انجام نہیں دیا۔ اگرچہ بعض مواقع پر حکومت نے اس طرح کے الزامات عائد کئے لیکن اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مزید کہا کہ برسراقتدار پارٹی کے قدیم اور بااثر لیڈر ایل کے اڈوانی جب ملک کے وزیر داخلہ تھے اس وقت انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ڈاکٹر راجندر پرشاد، جواہر لال نہرو، اے پی جے عبدالکلام اور مولانا آزاد جیسے قدآور قائدین نے دینی مدارس کی خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ جنگ آزادی میں مدارس سے نکلنے والے علماء نے غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ آزادی کے بعد بھی ملک کے انتہائی غریب طبقہ کو تعلیم سے آراستہ کرنے میں دینی مدارس کا نمایاں رول رہا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اس ارادہ سے باز آئے اور اگر کسی جائز ضرورت کے تحت سروے کرایا جاتا ہے تو صرف مدارس یا مسلم اداروں تک مخصوص نہ ہو بلکہ تمام قوموں کے مذہبی اور غیر مذہبی اداروں کا ایک مقررہ اصول کے تحت سروے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سروے میں سرکاری اداروں کو بھی شامل رکھا جائے کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے انفرااسٹرکچر کے سلسلہ میں جو ضابطہ مقرر کیا ہے خود سرکاری ادارے اسے کس حد تک پورا کررہے ہیں۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ صرف دینی مدارس کا سروے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی کوشش ہے اور قطعاً ناقابل قبول ہے۔ پوری ملت اسلامیہ اس کو مسترد کرتی ہے۔ر