کچھوے سے متاثر جنگی طیارہ ماڈل کی تیاری ۔ مدرسوں کی تعلیم پر سوال اُٹھانے والوں کو جواب
حیدرآباد ۔ 7 جنوری ۔ ( سیاست نیوز)دہلی کے مدرسہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے طلبہ نے حالیہ سائنسی نمائش میں اپنی غیرمعمولی جدید اور تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے سائنسی ماڈلس پیش کئے جنھوں نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ۔ اس نمائش کے ذریعہ طلبہ نے یہ ثابت کردیا کہ دینی تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی جدید سائنسی ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ توجہہ ایک کم عمر طالب علم آفاق کے تیار کردہ کچھوے سے متاثر جنگی طیارے کے ماڈل نے حاصل کی۔ یہ ماڈل ایک دوہرے مقصد کا ورسٹائل فائٹر جیٹ ہے جسے زمین اور فضا دونوں میں استعمال کرنے کے تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ طالب علم آفاق نے بتایا کہ کچھوے کی مضبوط ساخت اور دفاعی خصوصیات سے متاثر ہوکر انھوں نے یہ ڈیزائن تیار کیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ مستقبل میں اس تصور کو مزید ترقی دے کر ہندوستانی فوج کے دفاعی نظام کا حصہ بنایا جائے ۔ آفاق کی یہ اختراعی کاوش اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس ماڈل کی تیاری میں نہایت کم لاگت اور مقامی طورپر دستیاب اشیاء استعمال کی گئی ۔ تھرماکول ، لکڑی کے ٹکڑے اور پرانے الیکٹرانک پرزہ جات سے تیار کیا گیا یہ ماڈل نہ صرف طیارے کی ظاہری ساخت کی عکاسی کرتا ہے ۔ بلکہ اس میں لینڈنگ گیئر کو اندر کھینچنے کا میکانزم اور کاک پٹ میں لائیٹنگ جیسے فنکشنل فیچرز بھی شامل ہیں جو آفاق کی تکنیکی سمجھ بوجھ کا واضح ثبوت ہے ۔ آفاق کا کہنا ہے کہ اُن کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ صلاحیت اور ٹیلنٹ کسی مخصوص ادارے یا نصاب کا محتاج نہیں ہوتا ۔ اگر انسان میں سیکھنے کا جذبہ اور آگے بڑھنے کا حوصلہ ہو تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے خوابوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے ۔ ایک مدرسہ کا طالب علم بھی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی میدان میں اپنی شناخت بناسکتا ہے۔ آفاق کا یہ سفر کسی جدید لیباریٹری سے نہیں بلکہ دینی مدسے کی خاموش دیواروں کے درمیان شروع ہوا ہے۔ آفاق کا یہ کارنامہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر موقع دیا جائے تو مدرسے کے طلبہ بھی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں کمال دکھا سکتے ہیں۔ مدرسے کے طالب علم کا تیار کردہ ماڈل اس وقت سوشیل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ 2
