دین اسلام میں مذہبی تعصب اور منافرت کی گنجائش نہیں

   


مولانا ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی کا بیان

حیدرآباد۔ مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی نے کہا کہ وطن عزیز ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب کا گہوارہ رہا ہے جہاں ہندو، بدھ، سکھ، جین، مسلم، عیسائی، پارسی، یہودی وغیرہ کو تکثیری معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے اپنے مذاہب کو ماننے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ہندوستان میں مذہبی آزادی پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضاء مکدر ہونے لگی ہے اور مذہبی منافرت تیزی سے پھیلنے لگی ہے۔ ہندوستان میں مذہبی تعصب و منافرت اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ گائے کے ذبیحہ کے انسداد قوانین کا استعمال اکثر مسلمانوں اور دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کے لئے کیا جارہا ہے کیونکہ ان میں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش گائے کے گوشت کی فروختگی اور چمڑے کی صنعتوں سے وابستہ ہے۔ علاوہ ازیں مغربی معاشروں میں بھی مسلم اور اسلام مخالف جذبات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جو پوری انسانیت کیلئے ناسور سے بدتر ہے۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں بعض جذبات سے مغلوب مسلم نوجوان اس باطل خیال کا شکار ہورہے ہیں کہ ہمیں بھی نفرت کا جواب نفرت سے دینا چاہیئے۔ اسی طرح نفرت کا جواب پیار و محبت سے دیا جائے تو جلد نہیں تو دیر ہی سہی نفرت کی آگ بھی ٹھنڈی ہوجائے گی اور ہرطرف امن وآشتی کا ماحول پیدا ہوجائے گا۔