ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین کا بس ڈپو کے روبرو احتجاج
حیدرآباد ۔ 5 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ضلع نلگنڈہ کے دیورکنڈہ بس ڈپو سے وابستہ ڈرائیور کی چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین کو ڈیوٹی پر رجوع ہونے سے متعلق دئیے گئے الٹی میٹم کے باعث قلب پر شدید حملہ کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ دیورکنڈہ آر ٹی سی بس ڈپو میں خدمات انجام دینے والے بس ڈرائیور مسٹر ٹی جئے پال ریڈی ہڑتالی ملازمین آر ٹی سی کی جانب سے گذشتہ دن دیورکنڈہ بس ڈپو کے روبرو منظم کردہ احتجاجی دھرنا پروگرام میں شرکت کی ۔ اور بعد ازاں وہ اپنے موضع پگیڈی پلی نامپلی منل کو روانہ ہوگیا ۔ جب کہ وہ ( جے پال ریڈی ) کچھ عرصہ سے اپنے افراد خاندان کے ساتھ حیدرآباد میں ناگرجنا ساگر رنگ روڈ پر واقع اومکار نگر میں مقیم ہے ۔ جئے پال ریڈی جب پگیڈی پلی موضع کو روانہ ہوا ۔ تب اچانک جاری ہڑتال اور چیف منسٹر کے الٹی میٹم کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے جئے پال ریڈی کے قلب پر شدید حملہ کا واقعہ پیش آیا ۔ جس پر فوری انہیں دیورکنڈہ کے ایک خانگی ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ لیکن صورتحال تشویشناک ہوجانے کیوجہ سے موثر طبی امداد کی فراہمی کے لیے حیدرآباد روانہ کیا جارہا تھا کہ راستہ میں ہی جئے پال ریڈی کی موت واقع ہوگئی ۔ اس واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائدین ہڑتالی آر ٹی سی ملازمین اور مہلوک بس ڈرائیور کے افراد خاندان کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین دیورکنڈہ بس ڈپو کے روبرو اکھٹا ہوگئے ۔ اسی دوران مہلوک بس ڈرائیور جئے پال ریڈی کی نعش کو بھی حیدرآباد کے راستہ سے دوبارہ دیورکنڈہ لاکر بس ڈپو کے روبرو رکھ کر بڑے پیمانے پر احتجاج کا آغاز کیا ۔ اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائدین اور سیاسی قائدین نے کہا کہ محض جاری ہڑتال پر چیف منسٹر کی جانب سے دئیے گئے الٹی میٹم سے ہی دل برداشتہ ہوجانے کی وجہ سے جئے پال ریڈی کے قلب پر شدید حملہ کا واقعہ پیش آیا اور موت واقع ہوگئی ۔ بعد ازاں پولیس کی نگرانی میں مہلوک بس ڈرائیور جئے پال ریڈی کی نعش آخری رسومات کی انجام دہی کے لیے حیدرآباد منتقل کی گئی ۔۔