دیوڑھی خورشید جاہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے پر توجہ

   

مرمت و تزئین کے لیے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ٹنڈرس طلب کرے گی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : تاریخی چارمینار کے قریب حسینی علم میں واقع یوروپی طرز کے محل ، خورشید جاہ کی دیوڑھی کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے آخر کار حکومت نے توجہ دی ہے جو فی الوقت خستہ حالت میں ہے ۔ چنانچہ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے اس عمارت کی مرمت ، تزئین نو اور تحفظ کے لیے پہل کی ہے جس کا مقصد اس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنا ہے ۔ اس کے تحفظ اور مرمتی کام قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے طلب کئے جانے والے ٹنڈر پروسیس کے ذریعہ ایک خانگی ایجنسی کی جانب سے انجام دئیے جائیں گے ۔ جس کی تخمینہ لاگت 12 کروڑ روپئے ہوگی ۔ اس دیوڑھی کی بحالی کا کام توقع ہے کہ 18 مہینوں میں مکمل ہوگا ۔ امرائے پائیگاہ کی جانب سے انیسویں صدی کے آواخر میں تعمیر کی گئی اس عمارت کو اس کی دیکھ بھال نہ ہونے اور اس پر توجہ نہ دینے کی وجہ کافی نقصان پہنچا ہے اور اس کی حالت خراب ہوگئی ہے ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عہدیداروں نے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس عمارت کو نظر انداز کر کے اسے گرنے کے دہانے پر پہنچادیا ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ اس عمارت کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کا مقصد یہاں تہذیبی اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کو پھر سے بحال کرنا ہے ۔ اس محل کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئے ہیں ، فلورنگ کو نقصان پہنچا ہے اور دیواروں سے تکڑے گر رہے ہیں ۔ نیز اس محل میں برسوں فلم شوٹنگ سے بھی اس عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔ دسمبر 2022 میں اس عمارت کے دورہ کے دوران ایم اے اینڈ یو ڈی اسپیشل چیف سکریٹری اروند کمار نے کہا تھا کہ حکومت نے خورشید جاہ دیوڑھی کو اس کی اصل شان میں پوری طرح بحال کرنے کا تہیہ کیا ہے ۔ نیز حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے اس کے لانس کے سامنے فواروں کے ساتھ ایک گارڈن بنانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ سات ماہ کی تاخیر کے بعد آخر کار قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے اس شاندار عمارت کو اس کی اصلی حالت میں بحال کرنے کے لیے ضروری اقدامات شروع کئے ہیں ۔ ایک اونچے چبوترہ پر تعمیر کئے گئے اس دو منزلہ محل میں کبھی خوبصورت فانوس ، شاہانہ قالین اور شاندار ووڈ ورک ہوا کرتا تھا ۔ یہ عمارت خوبصورت یوروپی طرز کی ہے ۔ 2008 تک اس میں ایک ویمنس کالج تھا لیکن اس عمارت کی مضبوطی کے بارے میں تشویش کے باعث اسے دوسرے مقام پر منتقل کیا گیا ۔۔