دیویا ریڈی ‘ نرمل کے سیاسی اُفق پر ابھرتی خاتون لیڈر

   

ریاستی وزیر اندراکرن ریڈی کی بہو کو سماجی و فلاحی خدمات کے سبب کئی ایوارڈس و توصیف نامے
نرمل ۔ حلقہ اسمبلی نرمل میں ہر انتخابات میں یہاں کے سیاسی افق پر کوئی نہ کوئی شخصیت اپنی شناخت بناتے ہوئے مقبولیت حاصل کی ہے تاہم دس برس سے زیادہ عرصہ سے ایک خاتون اے دیویا ریڈی جو ریاستی وزری جنگلات اے اندراکرن ریڈی کی بہو ہیں اپنے خسر کے ہر انتخابات میں یعنی کوئی تین مرتبہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی نرمل کا ایسا کوئی دیہی علاقہ نہ ہو جہاں دیویا ریڈی نے کافی جدوجہد کرتے ہوئے ریکارانتخابی مہم چلاتی جبکہ گذشتہ سال بلدیہ کے انتخابات میں بھی ٹی آر ایس کے اراکین بلدیہ کی بڑی تعداد میں شاندار کامیابی کے لئے انہوں نے اپنی پوری صلاحیت کے ذریعہ رائے ہندوں کو ٹی آر ایس کی طرف راغب کرنے میں انتہائی اہم کردار نبھایاہے دیویا ریڈی کی ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ تعلیمیافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ انگریزی ‘ تلگو کے علاوہ پوری روانی سے اردو زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ محترمہ حیدرآباد میں ایک بہت بڑے گائے کے فارم ہاوز کی مالک ہیں اور گائے کی پرورش کرنا ان کا مشغلہ بھی ہے ۔ آپ کو ملک کے نائب صدر جمہوریہ کے ہاتھوں دیسی گائے کی شاندار پرورش اور دودھ کی پیداوار بہتر بنانے پر 2019 میں رائٹو نیٹم کا ایوارڈ سری وینکیانائیڈو کے ہاتھوں دیا گیا تھا ۔ اس موقع پر تلنگانہ گورنر سوندراراجن بھی موجود تھیں ۔ جبکہ گذشتہ ماہ یوم خواتین کے موقع پر اے دیویا ریڈی کے سماجی خدمات کو دیکھتے ہوئے کرناٹک حکومت کی جانب سے ان کی اعتراف خدمات پر قانون ساز کونسل کے اسپیکر ویشویشور ہیگڈے کے ہاتھوں ایوارڈ اور توصیف نامہ سے نوازہ گیا ہے ۔ واضح رہے کہ اے دیویا ریڈی بہت دنوں سے اپنے خسر کے ہر انتخاب میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے پارٹی کی کامیابی کے لئے کافی جدوجہد کی اور اپنی بھی ایک سیاسی پہچان بناچکی ہیں ۔ ریاستی وزیر اے اندرا کرن ریڈی جن کا ساسی سفر کافی طویل ہے وہ ضلع پریشد چیرمین رکن پارلیمنٹ کئی مرتبہ رکن اسمبلی کے علاوہ ٹی آر ایس کی حکمرانی میں دوسری مرتبہ وزیر جنگلات رہے ہیں اور ان کی فیملی میں سیاسی تجربہ اور عوامی خدمت کا بھرپور جذبہ کے ساتھ اے دیویا ریڈی نرمل کی سیاسی افق پر ابھر کر آئی ہیں‘ کیا آئندہ یہ حلقہ اسمبلی نرمل میں ایک سیاسی طاقت بن کر ابھر ے گی یہ سوال سیاسی حلقوں میں تبصرہ کا باعث اس لئے بھی ہے کہ حلقہ نرمل میں رائے دہندوں کا تناسب دیکھا جائے تو مرد رائے دہندوں سے زیادہ خاتون رائے دہندوں کی ہے ۔ اے دیویا ریڈی کی سماجی ‘ فلاحی خدمات بے خوف عوام کے درمیان رہتے ہوئے مسائل کی یکسوئی نے یہ ثابت کر رہا ہے کہ اب خواتین صرف باورچی خانہ کی ذہنیت نہیں رہی ان کے خسر کے بے مثال سیاسی خدمات اور تجربہ سے بھی دیویا ریڈی نے بہت کچھ سیکھا ہے ۔ دیکھنا ہے آئندہ اے اندراکرن ریڈی ریاستی وزیر کا فیصلہ کیا ہوگا ۔