لاک ڈاون میں نرمی کا اثر ‘ کچھ مقامات پر ٹریفک جام کی صورتحال ‘آج سے سختی برتنے پولیس حکام کا منصوبہ
حیدرآباد /8 مئی ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں 45 دن کے لاک ڈاؤن کے طویل عرصہ کے بعد شہر کی سڑکوں پر بھاری ٹریفک آج دیکھی گئی ۔ حکومت نے لاک ڈاؤن قوانین نے نرمی کرتے ہوئے الیکٹریکل ، اسٹیل ، سمنٹ ، ہارڈ ویر کے دکانات کو ریڈ زون میں بھی کھولنے کی اجازت دی جس کے بعد شہر کی سڑکوں پر اچانک ٹریفک امڈ آئی ۔ بعض مقامات پر تو ٹریفک جام کی صورتحال بھی دیکھی گئی ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے شراب کی فروخت کی اجازت کے بعد شراب خریدنے کیلئے کثیر تعداد میں عوام سڑکوں پر گاڑیوں کے ساتھ دکھائی دئے اور وائن شاپس کے روبرو لمبی خطاریں بھی دیکھی گئیں ۔ ٹریفک پولیس آج اس وقت حیرت کا شکار ہوگئی جب دونوں شہروں کے اہم جنکشنس سکندرآباد پیراڈائس سرکل ، سکندرآباد بیگم پیٹ روڈ ، جے این ٹی یو ، کوکٹ پلی وائی جنکشن ، مانصاحب ٹینک چوراہا ، نلگنڈہ چوراہا اور آرام گھر چوراہے پر ٹریفک جام ہوگئی تھی ۔ آئی ٹی کمپنیوں کے 30 فیصد ملازمین کو بھی آفس جانے کی اجازت دی گئی اور بعض سرکاری دفاتر نے بھی کام کرنا شروع کردیا ہے ۔ اور اس سے وابستہ ملازمین دفتر جاتے ہوئے دکھائی دئے ۔ سکندرآباد کے بیشتر علاقوں کی سڑکوں پر کاروں کی آمدو رفت کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس ہو رہا تھا کہ آیا لاک ڈاون ختم تو نہیں ہوگیا ہے ؟ ۔ حالانکہ 3 کیلومیٹر کے لزوم خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہنوز کارروائی جاری ہے لیکن ضروری اشیاء کے زمرہ میں سمنٹ ، اسٹیل ، ہارڈ ویر وغیرہ کو شامل کرنے پر ان دکانات کے مالکین سڑکوں پر دکھائی دئے ۔ حکومت نے مائگرینٹ مزدوروں کا روزگار برقرار رکھنے کیلئے شہر میں تعمیراتی کام کی اجازت دی ہے اور اس سے جوڑے ہوئے اشیاء کو بھی فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ شہر کی سڑکوں پر اچانک کثیر تعداد میں ٹریفک دیکھنے کے نتیجہ میں پولیس نے کل سے پھر ایک مرتبہ چیک پوسٹ پر سختی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹریفک میں اچانک اضافہ کے بعد عوام میں چہ میگوئیاں بھی شروع ہوگئیں اور یہ کہا جانے لگا کہ ایک طرف تو پولیس اہلکار اور عملہ کی جانب سے دواخانوں کو جانے والے افراد کو پرچیاں بتانے اور کارڈز بتانے کے باوجود روکا جا رہا ہے
اور ان کی گاڑیاں ضبط کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب اس طرح سے سڑکوں پر اچانک بھاری ٹریفک کی اجازت دی گئی ہے ۔ کئی مقامات پر لوگ یہ سوال کرتے دیکھے گئے کہ آیا لاک ڈاون ختم تو نہیں ہوگیا ہے ؟۔ کہا گیا ہے کہ پولیس کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے بھی ٹریفک میں اچانک اضافہ پر ماتحت عملہ پر برہمی کا اظہار کیا گیا جس کے بعد کل سے لاک ڈاون میں دوبارہ سختی کئے جانے کا امکان ہے ۔ واضح رہے کہ ڈی جی پی نے لاک ڈاون میں ضبط کی گئی گاڑیوں کو واپس کردینے کی ہدایت دی ہے ۔