دیڑھ ماہ کے دوران 225 گورنمنٹ و ریٹائرڈ ٹیچرس کی کورونا سے اموات

   

انتخابی ڈیوٹی ،500 سے زائد ٹیچرس کورونا سے متاثر، ٹیچرس تنظیم ٹی ایس یو ٹی ایس کی تشویش

حیدرآباد : گذشتہ دیڑھ ماہ کے دوران کورونا سے 166 گورنمنٹ ٹیچرس اور 59 ریٹائرڈ ٹیچرس کی اموات واقع ہوئی۔ ناگرجنا ساگر ضمنی انتخابات اور منی میونسپل انتخابات کی انتخابی ذمہ داری نبھاتے ہوئے 500 سے زائد گورنمنٹ ٹیچرس کورونا وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ ٹیچرس کی تنظیم، ٹی ایس یو ٹی ایف نے فہرست جاری کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹیچرس تنظیم کے ریاستی صدر کے جنگیا اور جنرل سکریٹری روی نے بتایا کہ کورونا کی دوسری لہر ریاست میں شدت اختیار کرچکی ہے۔ کئی گورنمنٹ ٹیچرس کی موت واقع ہوگئی ہیں۔ کئی ٹیچرس ہاسپٹلس میں علاج کے دوران لاکھوں روپئے خرچ کررہے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔ دیڑھ ماہ کے دوران گورنمنٹ ٹیچرس اور ریٹائرڈ ٹیچرس جملہ 225 افراد کی کورونا سے موت واقع ہوئی ہے۔ ناگرجنا ساگر ضمنی انتخابات اور منی میونسپل انتخابات میں انتخابی ڈیوٹی انجام دینے والے 550 سے زائد ٹیچرس کورونا سے متاثر ہوئے اور ان میں 15 کی موت واقع ہوگئی۔ ان قائدین نے کہا کہ خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں لاکھوں روپئے خرچ ہورہے ہیں۔ ایک طرف زندگیوں سے محروم ہورہے ہیں تو دوسری طرف قرضوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے میڈیکل ری ایمبرسمنٹ ہونے کی وجہ سے بیشتر ٹیچرس نے میڈیکل انشورنس نہیں کرایا ہے لیکن حکومت کورونا کے علاج کیلئے صرف ایک لاکھ روپئے ہی ادا کررہی ہے۔ ہاسپٹلس میں اس سے 10 گنا زیادہ خرچ ہورہے ہیں۔ علاج کے تمام اخراجات انہیں برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ کے جی بی وی اور کنٹراکٹ ٹیچرس کافی پریشان ہیں۔ ان کے ارکان خاندان سڑک پر آگئے ہیں۔ لہٰذا وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاج کیلئے جو حد مقرر کی گئی ہے اس سے فوری دستبرداری اختیار کی جائے اور حکومت تمام اخراجات برداشت کرے۔