دونوں شہر وں میں کئی افراد رشتہ داروں کے مکانات یا ہوٹلوں میں رہنے پر مجبور
حیدرآباد۔3مئی(سیاست نیوز)شہر میں مختلف ریاستو ںسے تعلق رکھنے والے شہری اور ملک کی دیگر ریاستوں میں شہر سے تعلق رکھنے والے ایسے شہری جو مختلف وجوہات کے سبب ملک کی دوسری ریاستو ں میں تھے ان کی واپسی اب بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے اورحکومت کی جانب سے مزدوروں کی واپسی کے اقدامات کے آغاز کے باوجود وہ شہری مشکلات میں مبتلاء ہیں جو دوسری ریاستوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہوٹلوں یا رشتہ داروں کے یہاں قیام کئے ہوئے ہیں۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی مکانوں میں ان کے رشتہ دار پھنسے ہوئے ہیں جو کہ ریاست مہاراشٹرا ‘ کرناٹک کے علاوہ گجرات اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں اسی طرحملک کی دیگر ریاستوں میں شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے افراد پھنسے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کو سفری سہولت کی ضرور ت نہیں ہے بلکہ صرف سفری اجازت فراہم کردی جاتی ہے تو ایسی صورت میں یہ اپنے اپنے مقامات کو روانہ ہوسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کا اب تک بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے بلکہ مزدوروں کی روانگی کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور انہیں سفری سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جار ہی ہے ۔
لیکن جن لوگوں کے پاس سفری سہو لت اور خانگی گاڑیاں موجود ہیں ان لوگوں کو ان کے آبائی مقام واپسی کی اجازت کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے نوڈل آفیسرس کے تقرر اور ریاستی سطح پر پھنسے ہوئے افراد کی واپسی کے انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات کے باوجود ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں ریاست مہارشٹرا کے کئی شہری پھنسے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اابائی مقام واپسی کے متمنی ہیں لیکن انہیں اجازت فراہم نہیں کی جا رہی ہے جو کہ ان کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا جا رہا ہے۔شہر حیدرآباد کے علاقہ تالاب کٹہ میں اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان پھنسا ہوا ہے اور اس خاندان کی جانب سے واپسی کی متعدد مرتبہ کوشش کی گئی لیکن وہ ناکام رہے اور اب جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے احکامات جاری کئے جاچکے ہیں تو ایسی صورت میں بھی انہیں اب تک اجامت حاصل نہیں ہوپائی ہے اور سی طرح تجارتی سرگرمیوں کی غرض سے شہر پہنچنے والے اور شہر سے روانہ ہونے والوں کی بھی حالت ہے اور وہ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں ۔