دیہی سطح پر شادیوں کے اسنادکی اجرائی کو یقینی بنانے کا منصوبہ

   

Ferty9 Clinic

دستاویزی ثبوت نہ ہونے کی وجہ بیوی کو چھوڑ کر لاپتہ ہونے والے شوہروں کے خلاف کارروائی میں دشواری
حیدرآباد۔9جولائی (سیاست نیوز) محکمہ بہبود برائے خواتین و اطفال نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے تمام مواضعات میں دیہی سطح کی شادیوں کے اندراج کو لازمی اور سرٹیفکیٹ کی اجرائی کو یقینی بنایاجائے تاکہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر لاپتہ ہونے والے شوہروں کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔بتایاجاتا ہے کہ سال گذشتہ 36 خواتین نے اپنے شوہروں کے چھوڑ کر جانے اور رابطہ میں نہ رہنے کی شکایات درج کروائی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کے پاس شادی کا دستاویزی ثبوت نہ ہونے کے سبب کاروائی میں دشواریاں ہورہی ہیں۔بتایاجاتاہے کہ محکمہ بہبود برائے اطفال و خواتین کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے تحت جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس میں آنگن واڑی اساتذہ کی خدمات حاصل کرتے ہوئے دیہی علاقوں اور مواضعات میں ہونے والی شادیوں کے اسناد و سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کو ممکن بنانے پر غور کیا جا رہاہے کیونکہ ریاست میں 35ہزار700 آنگن واڑی ورکرس کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں جملہ 12ہزار رجسٹریشن کے مراکز پنچایت اور بلدیات میں شروع کئے جانے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے اور ان کے متعلق شعور اجاگر کرنے کیلئے ہر ضلع کو 45ہزار روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے جاری کی جانے والی اس رقم کے ذریعہ دیہی علاقو ںمیں میریج رجسٹریشن ایکٹ کے متعلق شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔محکمہ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں نے بتایا کہ دیہی علاقو ںمیں شادی کے رجسٹریشن کا رجحان نہ ہونے کے سبب خواتین کو جو مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کے لئے ضروری ہے کہ انہیں شادی کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے۔ جن خواتین کے شوہر انہیں چھوڑ کر بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں یا لاپتہ ہیں تو ان تک رسائی کیلئے سفارتی کاروائی میں میریج سرٹیفیکیٹ کی کافی اہمیت ہے لیکن دیہی خواتین کو اس کے علاوہ شوہر سے علحدگی کیلئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔