حیدرآباد 23 اگسٹ (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائیکورٹ نے قومی دیہی ضمانت روزگار اسکیم کے بلز ادائیگی مسئلہ پر جگن موہن ریڈی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے احکام کے باوجود بلز کی عدم ادائیگی پر نکتہ چینی کی۔ ہائیکورٹ نے بلز کی ادائیگی کے مسئلہ پر اندرون دو ہفتہ تفصیلی رپورٹ پیش کرنے حکومت کو ہدایت دی ۔ جسٹس بی دیوانند نے ریمارک کیاکہ بلز کی عدم ادائیگی کے ذریعہ حکومت نے درخواست گذار کے بنیادی حقوق تلف کئے جس سے اُنھیں زندگی گزارنے کا حق ہے۔ عدالت نے دو ہفتوں میں 500 درخواست گذاروں کے بلز ادا کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہاکہ بلز کے ساتھ 20 فیصد سود سے استثنیٰ پر درخواست گذار کی اپیل کا جائزہ لیا جائے گا۔ دستور کی دفعہ 21 کے تحت ہر شخص کو جینے کا اختیار حاصل ہے۔ جو کام انجام دیا گیا اُس کے بلز ابھی تک ادا نہیں کئے گئے۔ عدالتی احکام کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔ حکومت کے حلفنامہ میں وضاحت کی گئی کہ قومی دیہی ضمانت روزگار اسکیم کے تمام بلز ادا کردیئے گئے اور حکومت کے پاس کوئی بقایا جات نہیں ہیں جبکہ درخواست گذاروں نے عدم ادائیگی کی شکایت کی ہے۔ R
