6 نومبر سے ریاست گیر سطح پر آغاز، 85 ہزار ملازمین کی خدمات کا حصول
حیدرآباد یکم۔نومبر (سیاست نیوز)وزیر بہبودی پسماندہ طبقات و ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے عوام سے اپیل کی کہ 6 نومبر سے ریاست میں شروع ہونے والی ذات پات پر مبنی مردم شماری میں حصہ لیتے ہوئے کامیاب بنائیں۔ پونم پربھاکر نے عوام کے نام مکتوب جاری کرکے کہا کہ سماجی انصاف کے تحت آبادی کے اعتبار سے حکومت کی اسکیمات میں حصہ داری کیلئے کانگریس قائد راہول گاندھی کی تجویز پر تلنگانہ حکومت نے مردم شماری کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مردم شماری میں نہ صرف حصہ لیں بلکہ عہدیداروں سے تعاون کریں۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ 10 نومبر 2023 کو راہول گاندھی نے کاما ریڈی میں کانگریس کا بی سی ڈکلیریشن جاری کیا تھا۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر کابینی اجلاس میں ریاست میں گھر گھر سروے کرکے پسماندہ طبقات کی معاشی ، تعلیمی ، سیاسی پسماندگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا جائیگا ۔ کابینہ میں 4 فروری 2024 کو اس پر فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ذات پات پر مبنی سروے سے تمام طبقات کی پسماندگی کی حقیقی صورتحال منظر عام پر آئیگی۔ تلنگانہ اسمبلی میں 16 فروری کو مردم شماری کے حق میں قرارداد منظور کی گئی ۔ حکومت نے 15 مارچ کو جی او ایم ایس 26 جاری کرکے تلنگانہ بی سی کمیشن کو ذمہ داری دی و اس کام کیلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ حکومت نے جی او ایم ایس 199 مورخہ 6 ستمبر تلنگانہ بی سی کمیشن کو مردم شماری کی ذمہ داری تفویض کی ۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ 6 نومبر سے 85000 سے زائد انومیریٹرس کے ذریعہ مردم شماری کے کام کا آغاز ہوگا۔ ہر 10 ملازمین کی ٹیم پر ایک نگرانکار مقرر کیا جائے گا ۔ منڈل ، ضلع و ریاستی سطح کے عہدیداروں کو مردم شماری کی نگرانی کا کام تفویض کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 نومبر تک مردم شماری کا کام مکمل کرلیا جائے گا ۔ عوام سے اس سلسلہ میں تعاون کی اپیل کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ راہول گاندھی کے وعدہ کے مطابق تلنگانہ حکومت نے مردم شماری کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے نتیجہ میں آنے والی نسلوں کے ساتھ انصاف کی امید ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ مردم شماری پسماندہ طبقات کا محض ایکسرے نہیں بلکہ میگا ہیلت چیک اپ کے مترادف ہے۔ انہوں نے مقررہ مدت میں مردم شماری کی تکمیل کیلئے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام طبقات کو اس سروے میں شامل ہوکر مقررہ فارمیٹ کو پر کرکے تفصیلات درج کرنی چاہئے ۔ 1