ذات پات کے نام عدم مساوات بیماری متصور سماجی جہدکار و کسان لیڈر یوگیندر یادو کا خطاب

   

حیدرآباد۔ 13 ستمبر (سیاست نیوز) اس ملک میں ذات پات کے نام پر عدم مساوات کو ایک بیماری تصور کیاجاتا ہے اور یہ تمام نظریات کے حامل لوگ مانتے ہیں جس میںدائیںاو ربائیںبازو نظریات کے حامل شامل ہیں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ آر ایس ایس بھی اس بات کو اب برسرعام تسلیم کررہے ہیںکہ پچھلے دو ہزار سالوں میں ذات پات کے نام پر عدم مساوات ‘ ناانصافی‘ حق تلفیاں کی جارہی ہیں۔سماجی انصاف میںیقین رکھنے والے او ریہاں تک کہ سماجی انصاف میں یقین نہیں رکھنے والے بھی اس بات کو آج تسلیم کررہے ہیںکہ ذات پات کا نظام اور اس کی بنیاد پر عدم مساوات بری بات ہے ۔تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی میں اے آئی ایس ایف‘ ایس ایف آئی‘ پی ڈی ایس یو‘ اے آئی او بی سی ایس اے‘ پی ڈی ایس یو ‘ ایم ایس ایف‘ ایم ایس ایف( ٹی ایس)‘ اے ایم ایس اے‘ آر ایس اے ‘ این ایس یوآئی‘ ڈی بی ایس اے‘ اے ایس اے‘ اے ایس ایف‘ ٹی ایس یو ‘ بی سی ویادرتھی سنگھم‘ گرجنا شکتی کے بشمول مختلف طلبہ تنظیموں کے زیراہتمام ’’ ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی ہمیںضرورت کیاہے‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز سماجی جہدکار اور کسان لیڈر یوگیندر یادو ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ مذکورہ طلبہ تنظیموں کے ذمہ داران او رکارکنان کی بڑی تعداد سے اپنے گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے یوگیندر یادو نے کہاکہ چند دن قبل آر ایس ایس سربراہ نے کہاکہ ذات پات کا نظام خراب ہے اور ہم پچھلے دو ہزار سالوں سے اس خراب کام کو انجام دیتے آرہے ہیںاور کم ازکم اب ہمیںاس میںسدھار لانے کی ضرورت ہے۔اپنے تفصیلی خطاب میں یوگیندر یادو نے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کو سماجی مساوات او رانصاف کے لئے ایک واحد او رموثر ذریعہ قراردیا ہے۔