نئی دہلی، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کی فوری حوالگی کے لیے ملیشیا سے بات چیت جاری رکھے گا۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا‘‘حکومت ہند نے نائیک کی حوالگی کے لیے ملیشیا حکومت سے رسمی اپیل کی ہے ۔ ہم ملیشیا سے اس سلسلے میں بات چیت جاری رکھیں گے ’’۔مسٹر کمار نے کہا کہ ہندوستان کا بہت سے ممالک کے ساتھ حوالگی معاہدہ ہے اور بہت سے ممالک نے اس معاہدے کے تحت مطلوبہ افراد کو ہندوستان کے حوالہ بھی کیا ہے ۔ہندوستان کے نظام عدل پر کبھی بھی آنچ نہیں آئی ہے ۔ملیشیا کے وزیر اعظم مھاتر محمد نے حال ہی کہا تھا کہ اسلامی مذہبی رہنما نائیک کو لگتا ہے کہ اسے ہندوستان میں مناسب انصاف نہیں ملے گا۔ نائیک کو ہندوستان کو حوالہ نہ کرنے کا ملک کے پاس حق ہے ۔مسٹر مہاتر محمد کے اس بیان سے نائیک کی حوالگی کے معاملہ میں نیا موڑ آ گیا ہے ۔قابل غور ہے کہ نائیک 2016 میں ملیشیا چلے گئے تھے اور ملیشیا نے اسے مستقل شہریت کا درجہ دیا ہے ۔ ان کا نام یکم جولائی 2016 کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک کیفے میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سامنے آیا تھا ۔ دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے اس حملہ میں 20 افراد کی موت ہوئی تھی۔منی لانڈرنگ کے الزام کا سامنا کررہے ذاکر نائیک کے پاس آمدنی کا کوئی معلوم ذریعہ نہیں ہے۔