دواخانوں میں عام مریضوں کی آمد و رفت پر پابندی ڈائیلاسیس کی عدم دستیابی
حیدرآباد۔2اپریل(سیاست نیوز) کورونا کے سبب دواخانوں میں روایتی مریضوں کی آمد پر عائد کی جانے والی پابندی کے سبب ذیابیطس اور گردہ کے عارضہ میں مبتلاء مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ گردہ کے عارضہ میں مبتلاء مریضوں کے علاوہ ذیابیطس اور دیگر مریضوں کو مسلسل اپنے چیک اپ کروانے ہوتے ہیں اور تلنگانہ میں غریب اور متوسط طبقہ کی جانب سے سرکاری دواخانو ںمیں گردہ کے علاج کے ساتھ ڈائیلاسس جو کہ مفت فراہم کیا جارہا تھا وہ کورونا وائرس کے سبب پیدا شدہ حالات اور ہیلت ایمرجنسی کی صورتحال کے باعث متاثر ہونے لگی ہیں۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود سرکاری دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریض جو کہ دواخانہ عثمانیہ ‘ نمس ‘ گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ کنگ کوٹھی دواخانہ سے رجوع ہوتے تھے انہیں ان دواخانو ں میں داخلہ کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے کیونکہ ان دواخانو ںمیں کورونا وائرس کے مریضوں کو رکھا گیا ہے اور انہیں دوسروں سے بالکلیہ طور پر الگ تھلگ رکھتے ہوئے ان کا علاج کیا جا رہا ہے کیونکہ وبائی مرض کسی بھی طرح سے متاثر ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام سرکاری دواخانوں کے علاوہ ریاست کے خانگی دواخانو ںمیں بھی آؤٹ پیشنٹ خدمات کو روک دیا گیا ہے اسی لئے ذیابیطس اور گردوں کے عارضہ میں مبتلاء مریضوں کو سرکاری دواخانوں کے علاوہ خانگی دواخانوں میں بھی کوئی خدمات دستیاب نہیں ہورہی ہیں جو کہ اب سنگین مسئلہ بنتا جا رہاہے۔ شہر حیدرآباد کے ہی سرکاری دواخانوں کا جائزہ لیا جائے تو یومیہ ان دواخانوں سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد 1ہزار سے زائد تھی لیکن اب ان کو معینہ تاریخ پر بھی ڈاکٹرس میسر نہیں ہیں ۔ ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بعد شہر کے تمام دواخانوں میں صرف ایمرجنسی خدمات انجام دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ مریضوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کے لئے انہیں ضروری ہے کہ ہجوم سے دور رکھا جائے۔