رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں تیزی سے گراوٹ

,

   

اراضی خریدی سے زیادہ فروخت کے رجحان میں اضافہ ، رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے مالکین اور ملازمین میں تشویش
حیدرآباد۔کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے منفی اثرات اب تیزی سے رونما ہونے لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ اب تیزی سے رئیل اسٹیٹ بازار میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے کیونکہ لوگوں میں خریدی سے زیادہ فروخت کا رجحان دیکھا جانے لگا ہے اور کہاجا رہاہے کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ نواحی علاقو ںمیں موجود کھلی اراضیات کی قیمتوں میں جو اچھال ریکارڈ کیا گیا تھا وہ بتدریج کم ہونے لگا ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اس کمی کے باوجود بھی جائیدادوں کی خریدی کیلئے کوئی گاہک نہیں مل رہے ہیں جبکہ خریداری کیلئے یہ بہترین وقت ہے مگر عام آدمی جو کہ ضرورت کے تحت کھلی اراضیات کی خریدی کرتے ہیں اور مکان کی تعمیر کے خواہشمند ہوتے ہیں ان کے پاس اتنی رقومات نہیں ہیں کہ وہ اراضیات خریدنے کے بعد تعمیراتی کام انجام دے سکیں جبکہ جن لوگوں کے پاس لاک ڈاؤن کے باوجود کچھ دولت موجود ہے وہ ان حالات میں جائیدادوں کی خریدی میں سرمایہ کاری کے حق میں نہیں ہیں اسی لئے رئیل اسٹیٹ تجارت میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔رئیل اسٹیٹ تاجرین جو کہ کرنسی تنسیخ کے بعد کی معاشی مندی کا شکار رہے تھے اور اب جاریہ سال کے آغاز کے ساتھ کچھ حالات بہتر ہونے لگے تھے ایسے میں کوروناو ائرس وباء اور لاک ڈاؤن کی صورتحال نے کاروبار کو مزید ابتر کردیا ہے

جس کے سبب ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ بعض رئیل اسٹیٹ تاجرین جو کہ معاہدہ کی بنیاد پر اراضیات حاصل کرتے ہوئے فروخت کرتے ہیں اور کھلی اراضیات پر پلاٹس کی فروخت کے بعد مالکین کو مکمل رقومات ادا کرتے ہیں وہ اپنے معاہدوں کی تنسیخ کے خوف کا شکار ہیں کیونکہ کروڑہا روپئے ادا کرتے ہوئے معاہدہ کیا جاتا ہے اور مکمل رقومات کی ادائیگی کیلئے جو وقت حاصل کیا جاتا ہے وہ وقت گذرنے کے بعد پیشگی حوالہ کردہ بیعانہ یا رقم ناقابل واپسی ہوتی ہے اسی لئے وہ معمولی قیمتوں میں بھی اراضیات اور پلاٹس فروخت کرنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں ۔شہر حیدرآباد کے علاوہ شہر کے نواحی علاقو ںمیں جہاں رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں عروج پر تھیں ان سرگرمیوں میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے جو کہ رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے ذمہ داروں اور ملازمین کے لئے تشویش کا باعث بننے لگی ہیں کیونکہ بیشتر رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کا انحصار ان معاملتوں پر ہی ہوتا ہے۔