رائٹر یا ایکٹر مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتے، سلیم ۔ جاوید کے بیان پر مسلم وکلا کا شدید ردعمل

   

نئی دہلی ۔ 13 ۔ نومبر (سیاست ڈا ٹ کام ) بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی حق ملکیت مقدمہ میں سپریم کورٹ نے فیصلے ہندو فریق کے حق میں دیا جس کے باعث مسلمانوں اور سیکولر طاقتوں میں مایوسی اور رنج و غم کی لہر پائی جاتی ہے۔ افسانوی اسکرین رائٹرس سلیم خان اور جاوید اختر خود کو آزاد خیال تصور کرتے ہیں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مسلم فریق کو 5 ایکڑ اراضی کسی موزوں مقام پر الاٹ کرنے کی ہدایت دی اور اس اراضی پر بقول سلیم جاوید مسجد تعمیر نہیں کی جانی چاہئے اس کی بجائے اس اراضی پر اسکولس، کالجس اور اسپتال تعمیر کئے جانے چاہئے۔ سلیم جاوید کے اس بیان پر آیودھیا ۔ رام جنم بھومی حق ملکیت مقدمہ میں مسلمانوں کی جانب سے پیروی کرنے والے مسلم وکلاء نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سلیم جاوید جیسے لوگ مسلم کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی اس مقدمہ میں ان کا کوئی اہم رول رہا۔ سپریم کورٹ میں مسلم فریقین کی جانب سے اس مقدمہ میں حاضر ہونے والے وکیل ایم آر شمشاد کا کہنا تھا کہ مرکز یا ریاست کی جانب سے الاٹ کی جانے والی اراضی پر اسپتالوں کی تعمیر سے صرف اور صرف اس معاملہ پر ایک پردہ پڑ جائے گا۔ اس کیس کے مدعی اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو دی جانے والی پانچ ایکڑ اراضی آیودھیا میں 67 ایکڑ اراضی میں سے ہی دی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہندوستان میں ہر طرف اسپتالوں کی ضرورت ہے۔ بابری مسئلہ دراصل ملک میں نظام کے چلنے کا ایک امتحان ہے اور قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر ہمیں یہ نظام کارکرد بنانا چاہئے۔ اراضی پر صرف اسپتال بنانے سے اس مسئلہ پر پردہ پڑ جائے گا۔ ویسے بھی سنی وقف بورڈ کی آیودھیا میں کافی اراضات ہیں۔ ان حالات میں سنی وقف بورڈ کو چاہئے کہ بابری مسجد، اسپتال؍ کالج کی تعمیر کے لئے زمین کا ایک حصہ انہیں دیا جانا چاہئے۔ دوسری طرف اس مقدمہ سے وابستہ ایک ممتاز وکیل جنہوں نے اپنا نام لینے سے گریز کرنے کی اپیل کی یہ مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کا معاملہ ہے اور سلیم جاوید جیسی شخصیتوں نے کبھی بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کی اور نہ اب کرسکتے ہیں۔ ان کے سابق پارٹنر جاوید اختر نے بھی ایک پیام ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ 5 ایکڑ اراضی پر اگر ایک ایسا خیراتی ہاسپٹل تعمیر کردیا جائے تو بہت اچھا ہوگا جس کی تمام طبقات مالی و اخلاقی مدد کریں گے۔