وقارآباد میں بی آر ایس قائدین کے خلاف مقدمہ درج
حیدرآباد۔/29 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی چناؤ کیلئے رائے دہی سے ایک دن قبل سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کی جانب سے رائے دہندوں کو دولت اور شراب کی تقسیم کے ذریعہ راغب کرنے کی کوششیں تیز ہوچکی ہیں۔ الیکشن کمیشن اور پولیس کی جانب سے تلاشی مہم اور مبصرین کے ذریعہ نظر رکھنے کے باوجود رقومات کی تقسیم کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔ پولیس نے بی آر ایس قائدین کو رائے دہندوں میں رقومات تقسیم کرتے ہوئے وقارآباد میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ بی آر ایس کے ایم پی ٹی سی پی رام کرشنا ریڈی اور سابق سرپنچ ہیما لتا ریڈی وقارآباد کے پوڈور منڈل کے چیلاپور گاؤں میں رائے دہندوں میں رقومات تقسیم کررہے تھے اور رقم حوالے کرتے ہوئے رائے دہندوں کو قسم دی جارہی تھی کہ وہ بی آر ایس کے حق میں ووٹ دیں۔ رقومات کی تقسیم کا ویڈیو منظر عام پر آیا جس میں رام کرشنا کے پاس 500 روپئے کے کرنسی نوٹس دیکھے جارہے ہیں اور خواتین کو رقم حوالے کرتے ہوئے بی آر ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کی جارہی ہے۔ ملزمین کی جانب سے کار کے نشان کو ووٹ دینے کی اپیل کے ساتھ جیسے ہی ویڈیو منظر عام پر آیا پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔ کانگریس ورکرس نے اس سلسلہ میں بی آر ایس قائدین کے خلاف شکایت درج کی جس پر آئی پی سی اور عوامی نمائندگان قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے مزید معلومات حاصل کی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے عہدیداروں سے اس بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔