حیدرآباد۔/25 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) الیکشن کمیشن نے آزادانہ اور منصفانہ رائے دہی کو یقینی بنانے کیلئے ووٹر شناختی کارڈ کے لزوم پر سختی سے عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ رائے دہی کے موقع پر حقیقی رائے دہندوں کی شناخت اور تلبیس شخصی کے واقعات کو روکنے کیلئے الیکشن کمیشن نے رائے دہندوں کیلئے ووٹر شناختی کارڈ پولنگ اسٹیشن میں پیش کرنے کو لازمی قرار دیا ہے۔ ایسے رائے دہندے جو ووٹر شناختی کارڈ پیش نہیں کرسکتے وہ متبادل کے طور پر شناختی دستاویزات پیش کرسکتے ہیں جن میں آدھار کارڈ، منریگا جاب کارڈ، پاس بک معہ پاسپورٹ جاری کردہ بینک یا پوسٹ آفس، ہیلت انشورنس اسپاٹ کارڈ جاری کردہ وزارت لیبر، ڈرائیونگ لائسنس، پیان کارڈ، اسمارٹ کارڈ جاری کردہ آر جی آئی، انڈین پاسپورٹ، پنشن ڈاکومنٹ معہ فوٹو گراف، سرویس شناختی کارڈ معہ فوٹو گراف جاری کردہ مرکزی و ریاستی حکومت، پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ، پبلک لمیٹیڈ کمپنی، ارکان اسمبلی وکونسل اور ارکان پارلیمنٹ کو جاری کردہ سرکاری شناختی کارڈ اور معذورین کو جاری کردہ کارڈ پیش کرسکتے ہیں۔ ووٹر فوٹو شناختی کارڈ میں کسی غلطی یا نام کے غلط اندراج کو نظرانداز کردیا جائے گا۔ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر جس کا تعلق دوسرے اسمبلی حلقہ سے ہو اس کی جانب سے جاری کردہ ووٹر شناختی کارڈ بھی قابل قبول رہے گا۔ اس کیلئے شرط یہ ہوگی کہ فہرست رائے دہندگان میں نام موجود ہو۔ فوٹو شناختی کارڈ میں تصویر کے ذریعہ رائے دہندے کی شناخت میں ناکامی کی صورت میں مندرجہ بالا متبادل دستاویزات پیش کئے جاسکتے ہیں۔ بیرون ملک کے رائے دہندے اپنے ہندوستانی پاسپورٹ کی تفصیلات کے ذریعہ اپنی شناخت ثابت کرسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے فہرست رائے دہندگان میں سیریل نمبر، پولنگ اسٹیشن اور رائے دہی کے دن اور اوقات کی تفصیلات سے واقف کرانے کیلئے ووٹر انفارمیشن سلپ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر پولنگ اسٹیشن اور دیگر تفصیلات درج رہیں گی۔ رائے دہی کی تاریخ سے پانچ دن قبل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کی جانب سے یہ تقسیم عمل میں آئے گی۔ تاہم ووٹر انفارمیشن سلپ رائے دہندوں کی شناخت کے طور پر قابل قبول نہیں رہے گی۔