رائے دہی کا تناسب کم ہونے کے باوجود ٹی آر ایس پوری طرح مطمئن : کے ٹی آر

   

ترقی اور امن و آمان کو عوام اہمیت دینے کا دعویٰ ، وزیر آئی ٹی کا دعویٰ
حیدرآباد :۔ جی ایچ ایم سی انتخابات میں رائے دہی کا تناسب توقع سے کم ہونے کے باوجود ٹی آر ایس کو سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے اور دوبارہ مئیر کے عہدہ پر قبضہ کرنے کا یقین ہے ۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے 150 کے منجملہ 149 بلدی ڈیویژنس میں منعقدہ انتخابات میں ووٹوں کے تناسب کا جائزہ لیا ہے اور مختلف اسمبلی حلقوں میں جن وزراء کو انچارجس بنایا گیا تھا ان سے بات چیت کی ہے اور ساتھ ہی جن ڈیویژنس پر ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل ، ضلع پریشد صدور اور پارٹی قائدین کو انچارجس بنایا گیا تھا ان سے بھی ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ان کی جانب سے پارٹی قیادت کو رپورٹ وصول ہوئی ہے ۔ جس کے بعد ٹی آر ایس حلقوں میں اطمینان دیکھا جارہا ہے ۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے ٹی آر ایس نے ڈیویژنس سطح پر پارٹی کے قائدین کو انچارجس نامزد کیا اور حکومت کی فلاحی اسکیمات ، کارکردگی اور شہر حیدرآباد میں لا اینڈ آرڈر کی برقراری ، گریٹر حیدرآباد پر 67 ہزار کروڑ روپئے کے اخراجات کو اہم موضوع بنایا گیا ۔ کے ٹی آر نے 100 بلدی ڈیویژنس میں روزانہ شام میں 33 روڈ شو منعقد کئے اور دن میں مختلف اداروں کی جانب سے اہتمام کردہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ چیف منسٹر کے سی آر کا ایل بی اسٹیڈیم میں منعقدہ جلسہ عام بھی کافی اثر دار رہا ہے ۔ ٹی آر ایس حلقوں کا ماننا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اس جلسہ عام سے تمام شہریوں کی حفاظت کرنے مفت پانی سربراہ کرنے ، انتخابات کے بعد سیلاب کے متاثرین میں 10 ہزار روپئے کی امداد بحال کرنے ، حجامت شاپس ، لانڈریز اور دھوبی گھاٹس کو مفت برقی سربراہ کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس کا بھی عوام میںمثبت پیغام پہونچنے کا ٹی آر ایس کے قائدین دعویٰ کررہے ہیں ۔ دوسری جانب بی جے پی نے انتخابات میں جارحانہ موقف اختیار کیا ہے ۔ دہلی کے اہم قائدین حیدرآباد پہونچ کر مہم چلائے ۔ وزیراعظم مودی ، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے بشمول دوسروں نے حیدرآباد کی سرزمین پر قدم رکھا ہے لیکن بی جے پی نے ترقی کا ایجنڈا عوام کے سامنے پیش کرنے کے بجائے صرف اشتعال انگیزی کو ترجیح دی ۔ پرانے شہر پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا ریمارکس کیا ہے ۔ ساتھ ہی ایسے وعدے کئے ہیں جس کا جی ایچ ایم سی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بی جے پی نے طوفانی انتخابی مہم چلانے میں کامیاب رہی ہے مگر عوام کا دل جیتنے میں ناکام رہی ہے ۔ ٹی آر ایس حلقوں کا ماننا ہے کہ اس مرتبہ بھی مئیر کے عہدے پر ٹی آر ایس کا قبضہ برقرار رہے گا ۔۔