تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات،مجلس بچاؤ تحریک کی الیکشن کمیشن سے نمائندگی
حیدرآباد۔ مجلس بچاؤ تحریک نے اسٹیٹ الیکشن کمشنر سی پارتھا سارتھی سے نمائندگی کرتے ہوئے رائے دہی کے موقع پر عوامی نمائندوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرنے سے متعلق ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کی درخواست کی۔ ایم بی ٹی کے ترجمان امجد اللہ خالد نے الیکشن کمیشن کے علاوہ ڈائرکٹر جنرل پولیس، کمشنر پولیس حیدرآباد اور ریٹرننگ آفیسر اعظم پورہ بلدی ڈیویژن کو ہائی کورٹ کے احکامات کی نقل روانہ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشن 21683 کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی رائے دہی کے موقع پر ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو حق رائے دہی سے استفادہ کے علاوہ گھومنے کی اجازت نہ دی جائے۔ جسٹس ابھیشک ریڈی نے یہ احکامات جاری کئے۔ نمائندگی میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود اسد اویسی اور احمد بلعلہ اپنے حامیوں اور غیر سماجی عناصر کے ساتھ مختلف پولنگ بوتھس پر قبضہ کرتے ہوئے بوگسنگ میں ملوث رہے۔ احمد بلعلہ ان کے حامیوں کے خلاف اعظم علی فرزند وزیر داخلہ محمد محمود علی پر حملہ کے سلسلہ میں دو علحدہ مقدمات درج کئے گئے تھے۔ گذشتہ انتخابات کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو رائے دہی کے دن ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کو گھومنے کی اجازت نہ دی جائے انہیں صرف حق رائے دہی سے استفادہ کا موقع دیا جائے اور اس کے علاوہ حلقہ میں گھومنے پر گرفتار کیا جائے کیونکہ یہ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی۔ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کیلئے عوامی نمائندوں کی نقل و حرکت پر پابندی اور اس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی اپیل کی گئی۔ واضح رہے کہ جسٹس ابھیشک ریڈی نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو ان کے ووٹ کے استعمال کیلئے بوتھ میں داخلہ کی اجازت دی جاسکتی ہے جبکہ دیگر الیکشن بوتھ میں ان کے داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔