راتوں رات تلنگانہ ریاست کی تشکیل نہیں ہوئی: محمد محمود علی

   

58 سال تک جدوجہد کی گئی، سینکڑوں قربانیاں دی گئیں، وزیر اعظم نے مجاہدین تلنگانہ کی توہین کی

حیدرآباد۔ 9 فروری (سیاست نیوز) ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تلنگانہ کی توہین کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری تلنگانہ کے عوام سے معذرت خواہی کرنے اور اپنے ریمارکس سے دستبردار ہو جانے کا مطالبہ کیا۔ محمدمحمود علی نے چادر گھاٹ چمن اور گن پارک پر منعقدہ احتجاجی پروگرامس میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر راجیہ سبھا میں تلنگانہ کی تشکیل سے متعلق غیر ذمہ دارانہ بیان دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ کا قیام راتوں رات عمل میں نہیں آیا بلکہ اس کے لئے 58 سال تک جدوجہد کی گئی۔ سینکڑوں قربانیوں کے بعد تلنگانہ ریاست قائم ہوئی ہے۔ تلنگانہ پہلے علیحدہ ریاست تھی۔ 1956 میں اس کو آندھرا میں ضم کیا گیا۔ 1969 میں آنجہانی ایم چناریڈی نے علیحدہ تلنگانہ کی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ مسلسل ناانصافیوں کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے 2001 میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی تشکیل دیتے ہوئے تلنگانہ کی جدوجہد کا آغاز کیا اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر انتھک جدوجہد کی جس پر اس وقت کی کانگریس کے زیر قیادت یو پی اے حکومت نے پارلیمنٹ میں بل منظور کرتے ہوئے 2014 میں علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی۔ تلنگانہ کی تاریخ سے واقفیت حاصل کئے بغیر مودی نے راجیہ سبھا میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہوئے مجاہدین تلنگانہ کی توہین کی ہے۔ جس کی ٹی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ مرکز کی جانب سے مسلسل تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ سوتیلا سلوک کیا جارہا ہے۔ مرکز کے تعاون کے بغیر تلنگانہ کو سنہری ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اعظم پورہ میں وزیر اعظم کا پتلا نذر آتش کیا گیا جبکہ یادگار شہیداں کو دودھ سے نہلایا گیا۔ اس موقع پر ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو ارکان اسمبلی ایم گوپی ناتھ، ڈی ناگیندر، ایم گوپال، ایم ایل سی، ایم ایس پربھاکر، سابق ڈپٹی میئر بابا فصح الدین، عنایت علی خاں، منور خاں، شریف الدین، عبدالباسط کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے۔ ن