اُردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کے درجہ باوجود حکام کا اُردو کیساتھ سوتیلا سلوک: طاہر سعدی کا ردعمل
حیدرآباد : سرکاری دفاتر کے سائن بورڈ سے آہستہ آہستہ اردو کو ہٹایا جارہا ہے۔ ایسا لگتا ہے ایک منظم سازش کے تحت یہ کارروائی کی جارہی ہے۔ جس کی زندہ مثال گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ہاسپٹل کنگ کوٹھی حیدرآباد کی ہے جہاں چند دن قبل تک ہاسپٹل کے سائن بورڈ پر انگریزی، تلگو کے ساتھ اردو میں بھی نام تحریر تھا لیکن دو دن قبل ہی ہاسپٹل کے لئے نیا سائن بورڈ آویزاں کیا گیا ہے جس سے اُردو کو غائب کردیا گیا ہے جس سے اُردو کے چاہنے والوں اور اقلیتوں میں بے چینی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کے 10 کے منجملہ سوائے ضلع کھمم کے ماباقی 9 اضلاع میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے کے بعد تلنگانہ حکومت نے 2016 ء میں اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اُردو کو ریاست کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے اور چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت کے بعد گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیں ہورہی ہے۔ اس مسئلہ پر اسمبلی میں جب بھی آواز اُٹھائی جاتی ہے، چیف منسٹر یا متعلقہ وزراء کی جانب سے شکایت کو نوٹ کرنے اور ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اس کو ٹال دیا جاتا ہے۔ ریاست کے صدر مقام حیدرآباد میں اُردو کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اضلاع میں اس کی کیا حالت ہوگی اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی طاہر سعدی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اُردو کی ترقی اور فروغ کے لئے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔ اُردو کو صرف زبانی ہمدردی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اُردو کو اس کا جائز حق دلانے کے اقدامات کریں۔ ریاست کے تمام سرکاری و خانگی اسکولس میں اُردو کو بطور دوسری زبان لازمی طور پر پڑھانے کے احکامات جاری کریں۔