رات میں پوسٹ مارٹم کا مقصد انسانی اعضاء کے عطیہ کی حوصلہ افزائی

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔16 نومبر(سیاست نیوز) رات کے اوقات میں پوسٹ مارٹم کی اجازت پر مرکزی حکومت کی جانب سے غور کیا جانے لگا ہے ۔ رات کے اوقات میں فی الحال پوسٹ مارٹم نہیں کیا جاتا اور صرف دن کے اجالے میں ہی پوسٹ مارٹم کی کاروائی کی جاتی ہے لیکن مرکزی حکومت کے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلت سروس کی جانب سے رات کے اوقات میں پوسٹ مارٹم کی اجازت کے امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ رات کے اوقات میں پوسٹ مارٹم کی اجازت کا مقصد انسانی اعضاء کے عطیہ کو فروغ دینے کے اقدامات کرنا ہے۔ وزارت کے ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں جو منصوبہ تیا رکیا گیا ہے اس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قتل‘ خودکشی‘ عصمت ریزی و قتل‘ مسخ شدہ نعش کے علاوہ ان نعشوں کے رات کے اوقات میں پوسٹ مارٹم کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کی اموات پر شبہات پائے جاتے ہیں لیکن شبہات سے عاری اموات کے پوسٹ مارٹم کے لئے صبح تک کیلئے انتظار کو ختم کئے جانے پر غورکیا جا رہاہے تاکہ متوفی کے پسماندگان کی جانب سے اگر اعضاء کے عطیہ کے لئے آمادگی ظاہر کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ان کے اعضاء کو قابل استعمال بنایا جاسکے۔ ماہرین کے مطابق پوسٹ مارٹم میں ہونے والی تاخیر کے سبب جن اعضاء کی پیوندکاری ممکن ہے ان اعضاء کو محفوظ کیا جانا مشکل ہوتا ہے اسی لئے ڈائریکٹوریٹ جنرل میڈیکل اینڈ ہیلت سروس کی جانب سے کی گئی سفارشات کا محکمہ صحت اور مرکزی حکومت کے متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے جائزہ لیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جلدہی سورج غروب ہونے کے بعد پوسٹ مارٹم نہ کرنے کے سلسلہ کو ترک کرنے کے سلسلہ میں قانون سازی کئے جانے کا امکان ہے۔م