رات کی تقاریب کو پھر بند کرنے کا امکان

   

بعض شہروں میں رات کا کرفیو نافذ ہونے پر شہریوں میں بے چینی
حیدرآباد۔ ملک کی دو ریاستوں میں رات کے کرفیو کے نفاذ کے اعلان کے بعد شہر حیدرآباد کے عوام میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ رات کے وقت جو تقاریب کا سلسلہ بحال کیا گیا ہے کسی بھی وقت بند کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ مہاراشٹرا کے کئی شہروں کے علاوہ کرناٹک میں رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک رات کے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا جاچکا ہے اور کیرالہ میں بھی اس پر غورکیا جانے لگا ہے ۔ شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے بعد بتدریج رات کے اوقات میں شادی بیاہ کی تقاریب کا انعقاد شروع کیا جا چکا ہے اور سابق کی طرح باضابطہ ہزاروں افراد پر مشتمل تقاریب منعقد کی جانے لگی ہیں لیکن اب جبکہ دو ریاستوں میں رات کے کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے تو ایسی صور ت میں آئندہ ایک ہفتہ کے دوران منعقد ہونے والی تقاریب کے داعیان کی جانب سے تشویش اور تفکرات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی ایسا کوئی فیصلہ کئے جانے کی صورت میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کسی طرح کے اقدامات کے متعلق دریافت کئے جانے پر محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایاکہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی جائے گی اور اس کے بعد ہی کوئی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ اور تحدیدات کے ہٹائے جانے کے بعد سے معمول کے مطابق شادیوں اور دیگر تقاریب کا اہتمام کیا جانے لگا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہونے لگی ہے اس سے شہریوں میں خوف پیدا ہونے لگا ہے اور اس بات کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے ہیں کہ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں کسی بھی وقت حکومت کی جانب سے اس بات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے اور حکومت رات کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کا اعلان کرسکتی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے رات دیر گئے جاری رہنے والی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ حکومت مرکزی حکومت کی جانب سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کو روکنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے اقدامات کر رہی ہے اور اگر صورتحال بے قابو ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت کی جانب سے سخت گیر اقدامات سے گریز نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔