رات کے کرفیو کے باوجود کورونا کے پھیلاو میں تیزی جاری

   


سری سیلم اور عادل آباد میں ایک مقام پر درجنوں افراد کورونا سے متاثر ہوئے
حیدرآباد۔تلنگانہ میں رات کے کرفیو کے فیصلہ کے باوجود کورونا مریضوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور نہ ہی وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کامیابی ملی ہے۔ تلنگانہ میں فی الحال جملہ 65ہزار سے زائد کورونا مریض ہیں جن میں 15 فیصد ہی دواخانوں میں شریک ہیں جبکہ مابقی گھریلو قرنطینہ میں اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری دواخانوں میں اور حکومت سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کا جائزہ لینے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے میڈیکل بلیٹن میں 10 فیصد تفصیلات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ 90 فیصد حقائق کو مخفی رکھا جا رہا ہے ۔ تلنگانہ میں کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کا جائزہ لینے اگر یکم اپریل کے مریضوں اور 25 اپریل کے مریضوں میں اضافہ کو دیکھیں تو انکشاف ہوگا کہ ریاست میں یکم اپریل کو 6159 کورنا مریض موجود تھے جبکہ 25 اپریل تک کا جائزہ لیا جائے تو اس میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے اور 25 اپریل کو تلنگانہ میں 62ہزار929 مریض پائے گئے ۔ تلنگانہ میں رات کے کرفیو کے باوجود مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جو تشویشناک ہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ گذشتہ چند یوم کے دوران جو بڑی تعداد ایک ہی مقام سے مریضوں کی فہرست میں شامل ہوئی ہے ان میں سری سیلم مندر میں 60 سے زائد کورونا متاثرین کے علاوہ عادل آباد رام لیلامیں 100 سے زائد کورونا متاثرین پائے گئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ عادل آباد میں رام نومی کے موقع پر رام لیلا میں شریک 100 سے زائد افراد کورونا متاثرین میں شامل ہیں جبکہ سری سیلم مندر میں درشن کرنے والوں کی بڑی تعداد کورونا کا شکار ہونے لگی ہے اور 60 سے زائد بھکت کورونا وائرس سے متاثرہ پائے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے رات کے کرفیو کی خلاف ورزی اور دن کے اوقات میں کورونا وائرس کی علامات نہ رکھنے والے مریضوں کی آزادانہ گشت کے سبب متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے جس پر قابو پانا مشکل ہوتا جا رہاہے۔