راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی کامیابیسے بنگال میں بی جے پی کے حوصلے بلند

   

Ferty9 Clinic

کولکتہ: راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی برتری نے مغربی بنگال یونٹ کو ریاست میں اپنے امکانات کے بارے میں زیادہ پر امید بنا دیا ہے، جس کے ساتھ لیڈروں کا ایک حصہ ترنمول کانگریس کی حکومت کے خاتمے کی پیشقیاسی کرنے لگا ہے ۔ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر (ایل او پی) سویندو ادھیکاری جیسے ریاستی بی جے پی لیڈروں نے چھتیس گڑھ کی صورتحال کا حوالہ دیا ہے، جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کی جیت کو یقینی بنانے میں بدعنوانی نے سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ مغربی بنگال حکومت 2026 تک اپنی مدت پوری نہیں کرے گی۔ اس سے بہت پہلے وہ گر جائے گی۔ کل سے ایک بار پھر ہمہ گیر حملہ ہو گا۔ ملک میں واحد گارنٹی جوکام کرے گی وہ نریندر مودی کی گارنٹی ہے۔ مغربی بنگال میں سچ ہوگا، ادھیکاری نے کہا۔ اگرچہ ایل او پی نے زیادہ سے زیادہ الفاظ میں وضاحت نہیں کی لیکن ان کے واضح اشارے مغربی بنگال میں مختلف مالیاتی گھوٹالوں پر مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے ممکنہ اور زیادہ مضبوط کارروائی کرنا تھا۔ ریاستی پارٹی کے ترجمان سمک بھٹاچاریہ نے کہا کہ نتائج کا اثر مغربی بنگال پر ضرور پڑے گا۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کی طرح مغربی بنگال کے لوگ بھی یہاں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور جمہوریت کے قتل عام کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گے، جس کی پہلی جھلک 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں محسوس ہوگی،بھٹاچاریہ نے زور دے کر کہا۔ ترنمول کانگریس کی قیادت کی طرف سے ایک میلاردعمل تھا جس نے نتائج کو بی جے پی کی کامیابی سے زیادہ کانگریس کی ناکامی قراردیا۔ ترنمول کانگریس کے ریاستی ترجمان کنال گھوش نے کہا یہ بی جے پی کی جیت نہیں ہے بلکہ یہ کانگریس کی شکست ہے۔ یہ غیر یقینی ہے کہ آیا وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اس معاملے پر دن کے بعد کوئی ردعمل دیں گی۔