راجستھان میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ جاری

,

   

بوندی ضلع کے بلدیو پورہ سے شروع ہوا سفر،عوام کا شاندار ردعمل
بوندی(راجستھان ): کانگریس کے سابق قومی صدر راہول گاندھی نے آج صبح تقریباً 6 بجے بوندی ضلع کے کاپرین کے نزدیک بلدیو پورہ سے اپنی یاترا شروع کی۔راہول گاندھی جب اپنی بھارت جوڑو یاترا کے ساتھ روانہ ہوئے تب کچھ اندھیرا ہونے کے باوجود ان کا استقبال کرنے کے لئے لوگ لال سوٹ میگا ہائی وے پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ گاندھی جب وہاں سے گزر رہے تھے تو سڑک کے دونوں طرف گاؤں والوں کی بڑی تعداد جن میں خواتین اور نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل تھے، ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔ انہوں نے ہاتھ ہلا کر راہول گاندھی کا استقبال کیا۔اس دوران وزیراعلی اشوک گہلوت، کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ساتھ قافلے میں شامل ہوئے اور وہ راہول گاندھی سے کچھ پیچھے چلتے رہے ۔ کانگریس سیوا دل کے کارکنان ان کے ساتھ ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھائے چل رہے تھے۔ یاترا کے دوران راہول گاندھی نے چند مواقع پر نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے بات چیت کی۔ کچھ لڑکیاں 4تا5 کے گروپ میں راہول گاندھی کے پاس پہنچی اور ان سے بات کی اور ان کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں۔ راستے میں ایک خاتون ، جو راہول گاندھی کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر پیش کرنا چاہتی تھیں، ان کے پاس پہنچی۔ تقریباً دو کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد کچھ کسان راہول گاندھی کے پاس آئے اور کسانوں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ ان کے ہاتھ میں کچھ کاغذات بھی تھے جو انہوں نے راہول گاندھی کو بھی دکھائے۔ راہول گاندھی نے کچھ دیر ان کی باتوں کو غور سے سنا اور ان سے بات کی۔ راہول گاندھی نے یاترا کے دوران بیل گاڑی بھی چلائی۔ اس دوران دوٹاسرا نے کسانوں کی بات بھی سنی۔ اس سے قبل راہول گاندھی اور ان کے ساتھ بھارت جوڑو یاترا میں ان کے ساتھ چلنے والے قافلے نے کوڑکیا گاؤں کے قریب باجدلی ریلوے پھاٹک کے قریب بنائے گئے قیام کے مقام پر آرام کیا۔