راجندر نگر میں طاقتور کیمیائی دھماکہ،ایک شخص ہلاک، علاقہ میں سنسنی

,

   

حیدرآباد ۔ /8 ستمبر (سیاست نیوز) شہر کے علاقہ راجیندر نگر میں ایک مشتبہ طاقتور دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور دھماکہ نے پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے حلقوں میں تشویش پیدا کردی ۔ تفصیلات کے مطابق آج صبح 10.45 پر علاقہ راجیندر نگر پی وی این آر ایکسپریس وے پلر نمبر 279 کے قریب سرویس روڈ پر پیش آیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 40 سالہ سید خواجہ علی الدین جو اُسی علاقہ میں کچرا چن کر اپنی زندگی گزارتا ہے نے ایک مشتبہ باکس کھولنے کی کوشش کی جس کے بعد یہ زبردست دھماکہ ہوا ۔ دھماکہ اتنا شدت کا تھا کہ دور تک دھماکہ کی آواز سنائی دی اور علی الدین کے دونوں ہاتھوں کے پنجے دھماکہ میں اڑگئے اور اس کے جسم سے بھی کپڑے مکمل طور پر پھٹ چکے تھے ۔ شبہ کیا جارہا ہے کہ مشتبہ باکس میں دھماکو مادہ موجود تھا جس کے نتیجہ میں یہ دھماکہ ہوا ہے ۔ اس واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس راجیندر نگر کی ٹیم موقعہ واردات پر پہونچ گئی اور کچھ ہی دیر میں پولیس کمشنر سائبر آباد وی سی سجنار ، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کاؤنٹر انٹلیجنس سیل راجیش کمار ، ڈپٹی کمشنر پولیس شمس آباد این پرکاش ریڈی کے علاوہ فارنسک کے ماہرین بھی وہاں پہونچ گئے ۔ اس دھماکہ میں سید خواجہ علی الدین شدید زخمی ہوگیا تھا اور اس کی کچھ سانسیں باقی تھیں جس کے نتیجہ میں اسے بذریعہ 108 ایمبولینس عثمانیہ دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کی ۔ سائبرآباد کے سراغ رسانی دستہ (کلوز ٹیم) بھی وہاں پہونچ گئی اور علی الدین کے جسم کے کپڑے بھی پھٹ چکے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی اور پولیس نے علاقہ کا محاصرہ کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ پلر نمبر 279 کے قریب بعض افراد کی جانب سے دھماکو مادہ یا کیمیکل پارسل کی شکل میں پھینک دیا گیا تھا

اور علی الدین اس کی زد میں آگیا ۔ پولیس نے علاقہ کی سی سی ٹی وی کیمروں کا بھی تجزیہ کیا جس سے اہم سراغ حاصل کئے ہیں ۔ پولیس کمشنر سائبر آباد وی سی سجنار نے بم دھماکہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محلول کیمیکل مادہ کے نتیجہ میں یہ دھماکہ ہوا ہے اور اس کے نمونے فارنسک لیباریٹری کو بھیج دیئے گئے ہیں اور اس کی رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔یوم عاشور اور گنیش وسرجن سے قبل پیش آئے اس حادثاتی واقعہ کے بعد سنسنی اور تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مہلوک علی الدین کی نعش کے پوسٹ مارٹم سے بھی بعض شواہد حاصل ہوسکتے ہیں ۔ پولیس راجیندر نگر نے اس ضمن میں ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور اس واردات کی ہر زاویہ سے تحقیقات جاری ہے ۔