راجندر کیخلاف اراضی کا ایک اور معاملہ چیف منسٹر کے پاس پہنچا

   

چیف سکریٹری کو تحقیقات کی ہدایت، اے سی بی ویجلینس ڈپارٹمنٹ متحرک

حیدرآباد۔ سابق وزیر صحت ایٹالہ راجندر کی جانب سے اراضی پر قبضہ کا ایک اور معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ملکاجگیری ضلع کے میڑچل منڈل سے تعلق رکھنے والے مہیش مدیراج نے شکایت کی ہے۔ چیف منسٹر کو مدیراج نے اپنی شکایت میں بتایا کہ میڑچل منڈل کے راولکول میں مہیش مدیراج کی اراضی پر ایٹالہ راجندر کے فرزند ایٹالہ نتن ریڈی نے قبضہ کیا ہے۔ شکایت کنندہ نے چیف منسٹر سے انصاف کی اپیل کی۔ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری سومیش کمار کو ہدایت دی کہ مذکورہ شکایت کی فوری تحقیقات کرائیں۔ انہوں نے محکمہ ریوینو اور اے سی بی ویجلینس کو بھی اس معاملہ میں جامع تحقیقات کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعہ ایٹالہ راجندر کے فرزند نے 10 ایکر 11 گنٹے اراضی حاصل کرلی اور دستاویزات بھی اپنے نام پر تیار کرلئے ہیں۔ مہیش مدیراج کے مطابق یہ ان کی آباء و اجداد کی زمین تھی جس پر وہ کاشت کررہے تھے۔ انعام لینڈ قرار دے کر اسے خرید لیا گیا اور مالک کی حیثیت سے نتن ریڈی کا نام ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔ واضح رہے کہ اراضی معاملات کی مزید دو شکایتیں پہلے ہی حکومت کو حاصل ہوئی ہیں جس کے بعد راجندر کو ریاستی کابینہ سے برطرف کیا گیا۔ میدک ضلع کے اچم پیٹ موضع کے ماسائی پیٹ منڈل میں 66 ایکر اراضی پر قبضہ کا الزام ہے اس کے علاوہ ملکاجگیری ضلع کے دیورایمجال میں مندر کی 6 ایکر اراضی پر قبضہ کے معاملہ میں دو علحدہ تحقیقات جاری ہیں۔ حکومت نے مندر اراضی کی جانچ کیلئے 4 آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔