راجہ سنگھ نے تلگودیشم میں شامل ہونے کی تردید کی

   

لمحہ آخر تک انتظار کرنے ، معطلی برخاست نہ ہونے کی صورت میں ہندو دھرم کیلئے کام کرنے کاعزم

حیدرآباد ۔ 29 اپریل (سیاست نیوز) بی جے پی کے معطل شدہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے تلگودیشم میں شامل ہونے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آخری لمحہ تک انتظار کریں گے پھر بھی بی جے پی قیادت کی جانب سے ان کی معطلی کو برخاست نہیں کیا گیا تو سیاست سے دوری اختیار کرتے ہوئے ہندو دھرم کیلئے کام کریں گے مگر تلگودیشم کسی اور سیاسی پارٹی میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ساتھ ہی انہوں نے تلگودیشم کے قومی سربراہ سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی چندرا بابو نائیڈو کی مرہون منت ہے۔ کے سی آر نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے کوئی کام نہیں کیا۔ راجہ سنگھ نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں چندرا بابو نائیڈو کی قیادت میں تلگودیشم پارٹی دوبارہ برسراقتدار آنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کا وہ بہت زیادہ دل سے احترام کرتے ہیں۔ تلگودیشم کے سربراہ نے ہی انہیں سیاسی زندگی دی ہے مگر انہوں نے کہا کہ احترام الگ ہے اور سیاست الگ ہے۔ وہ بھی خواہش کرتے ہیں کہ آندھراپردیش میں تلگودیشم کی حکومت قائم ہو۔ میری ذہنیت کے لحاظ سے بی جے پی ہی میرے لئے بہتر ہے۔ واضح رہیکہ سال 2009ء کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں راجہ سنگھ نے تلگودیشم کے ٹکٹ پر جی ایچ ایم سی انتخابات میں مقابلہ کرتے ہوئے پہلی مرتبہ کارپوریٹر کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تلگودیشم سے معطلی کے بعد انہوں نے 2014ء میں بی جے پی میں شامل ہوتے ہوئے اسمبلی حلقہ گوشہ محل سے کامیابی حاصل کی تھی۔ن