راجہ سنگھ کو پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دینے محمد علی شبیر کا مطالبہ

   


بی جے پی سے معطلی محض ڈرامہ، ٹی آر ایس کی بالواسطہ سرپرستی حاصل
حیدرآباد۔/23 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کو پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی بارہا کوششوں کی مذمت کی ہے۔ محمد علی شبیر نے تلنگانہ پولیس کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پیغمبر اسلام کے خلاف راجہ سنگھ کے ویڈیو کے وائرل ہونے کے باوجود پولیس نے سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کا انتظار کئے بغیر پولیس کو اپنے طور پر کیس درج کرنا چاہیئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کی جانب سے رات بھر احتجاج کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے ضابطہ کی تکمیل کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ راجہ سنگھ نے چونکہ سابق میں کئی مرتبہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے لہذا ان سے عادی مجرم کے طور پر نمٹا جانا چاہیئے اور تمام سابقہ مقدمات کے ساتھ پی ڈی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ وہ باآسانی ضمانت پر رہا نہ ہو۔ اگر راجہ سنگھ کو ضمانت منظور ہوتی ہے تو وہ اس طرح کے بیانات جاری رکھے گا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ راجہ سنگھ کو بالواسطہ طور پر ٹی آر ایس حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور سابق میں کبھی بھی ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی بلکہ مقدمات سے دستبرداری اختیار کی گئی جس کے نتیجہ میں راجہ سنگھ کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کی جانب سے راجہ سنگھ کی معطلی کو بڑا ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ نوپور شرما کے معاملہ میں بھی یہ ڈرامہ کیا گیا لیکن اسے پارٹی کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ نوپور شرما کے خلاف تحقیقات میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے اوردہلی پولیس کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ محمد علی شبیر نے راجہ سنگھ کے اشتعال انگیز بیانات سے نمٹنے کیلئے فاسٹ ٹریک کورٹ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جرائم کے لیے فوری سزا کی گنجائش ہونی چاہئے ۔ر