سہ رکنی بنچ نے نوٹس جاری کی، حلفنامہ میں 8 کریمنل کیسس کا تذکرہ نہ کرنے کی شکایت
حیدرآباد۔/4 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی راجہ سنگھ کو نوٹس جاری کی ہے۔ انتخابی حلفنامہ میں بعض زیر التواء کریمنل کیسس کو مخفی رکھنے کے معاملہ میں یہ نوٹس جاری کی گئی۔ چیف جسٹس یو یو للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس جے بی پارڈی والا پر مشتمل بنچ نے یکم نومبر سے قبل جوابی حلفنامہ داخل کرنے راجہ سنگھ کو ہدایت دی ہے۔ 2018 اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے پریم سنگھ راتھوڑ نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے11 مارچ کو راجہ سنگھ کے خلاف راتھوڑ کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ درخواست گذار نے راجہ سنگھ کے چناؤ کو عدالت میں چیلنج کیا اور کہا کہ راجہ سنگھ نے الیکشن کمیشن کو پیش کردہ حلفنامہ میں ان کے خلاف زیر التواء 8 فوجداری مقدمات کا تذکرہ نہیں کیا ہے لہذا گوشہ محل سے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ راجہ سنگھ نے حلفنامہ میں 43 مقدمات کا انکشاف کیا ہے مزید 8 مقدمات کے انکشاف سے راجہ سنگھ کو الیکشن لڑنے اور منتخب ہونے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو پریم سنگھ راتھوڑ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اپیل دائر کی۔ سپریم کورٹ نے درخواست گذار سے کہا کہ وہ اندرون دو ہفتے ان کے پاس موجود دستاویزی شواہد کو پیش کریں جس کے بعد فریق ثانی کی جانب سے اندرون ایک ہفتہ جوابی حلفنامہ داخل کیا جائے۔ ر