ٹی ایم سی اراکین کی بی جے پی ایم پی سماک بھٹاچاریہ کے خلاف ایوان کے وسط میں نعرے بازی
نئی دہلی، 10 فروری (یو این آئی) راجیہ سبھا میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سمِک بھٹاچاریہ کی جانب سے کولکاتہ پورٹ کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اسے ’منی پاکستان‘ کہنے پر اپوزیشن جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اراکین نے سخت اعتراض کیا اور ایوان کے وسط میں آ کر نعرے بازی کی۔ وقفہ سوالات شروع ہوتے ہی بھٹاچاریہ نے بالاگڑھ لاجسٹکس پروجیکٹ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا ضمنی سوال پوچھا۔ جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے ریاستی وزیر شانتنو ٹھاکر نے بنگلہ زبان میں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروجیکٹ 900 ایکڑ پر محیط ہوگا، جس میں کولکاتہ کے موجودہ شیاما پرساد مکھرجی پورٹ کی 300 ایکڑ زمین بھی شامل ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے لیے تعاون نہیں مل رہا ہے ۔ دوسرا ضمنی سوال پوچھتے ہوئے بھٹاچاریہ نے دعویٰ کیا کہ کولکاتہ میں بندرگاہ کی 170 ایکڑ زمین پر غیر قانونی قبضہ ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہر کے میئر نے خود گارڈن ریچ کے علاقے میں تجاوزات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ’منی پاکستان‘ کہا تھا۔ اس بیان پر ترنمول کانگریس کے اراکین نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ وزیر شانتنو ٹھاکر نے بی جے پی رکن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی حکومت کے لوگوں نے ہر جگہ تجاوزات کر رکھی ہیں۔ مہاراشٹر سے این سی پی (ایس پی) کی فوزیہ خان اور کیرالہ سے سی پی آئی (ایم) کے جان بِریٹاس نے بھی سوال پوچھتے وقت ’منی پاکستان‘ جیسے الفاظ کو ریکارڈ سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، جب وزیر نے دوبارہ یہ بات دہرائی کہ میئر نے میڈیا کے سامنے یہ الفاظ استعمال کیے تھے ، تو ترنمول اراکین مزید مشتعل ہو گئے ۔ ٹی ایم سی اراکین احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ چیرمین نے انہیں بار بار اپنی نشستوں پر واپس جانے کی ہدایت کی اور تنبیہ کی کہ اگر وہ خاموش نہ ہوئے تو انہیں تادیبی کارروائی کرنی پڑے گی۔ اس مداخلت کے بعد ترنمول ارکان کا احتجاج کسی حد تک کم ہو گیا۔ ان دنوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا دونوں ہی نروانے کی کتاب کو لے کر ہنگامہ کا مرکز بن چکے ہیں۔