راجیہ سبھا کی دو نشستوں کیلئے کئی دعویدار، کیشورائو اور کویتا کے نام سرفہرست

   

ایس سی ایس ٹی طبقات کا چیف منسٹر پر دبائو، مدھوسودن چاری اور کے آر سریش ریڈی بھی امیدواروں میں
حیدرآباد۔ 21 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لیے برسر اقتدار پارٹی میں خواہشمند امیدواروں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ 9 اپریل کو تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے دو ارکان راجیہ سبھا کی میعاد مکمل ہوگی جس کے لیے برسر اقتدار پارٹی میں کئی دعویدار ہیں۔ راجیہ سبھا کے جملہ ارکان کی تعداد 42 ہے جن میں سے 73 ارکان کی میعاد جاریہ سال فروری اور نومبر کے درمیان مکمل ہوجائے گی۔ ان میں سے دو کا تعلق تلنگانہ سے ہے جن کی میعاد 2 اپریل کو ختم ہوگی۔ میعاد مکمل کرنے والے ارکان میں کانگریس کے کے وی پی رام چندر رائو اور تلگودیشم سے منتخب ہوکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے جی موہن رائو شامل ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے وقت آندھراپردیش کو الاٹ کئے گئے ٹی آر ایس کے قومی سکریٹری جنرل ڈاکٹر کے کیشو رائو کی میعاد بھی 2 اپریل کو ختم ہوجائے گی۔ رام موہن رائو اور کے وی پی رام چندر رائو کی جگہ پر نئے ارکان کا انتخاب ہوگا جس کے لیے ارکان اسمبلی ووٹ دیں گے۔ جاریہ ماہ کے اواخر یا مارچ کے پہلے ہفتے میں دونوں نشستوں کے الیکشن کے لیے اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ قواعد کے مطابق نشستوں کی میعاد مکمل ہونے کے 50 دن قبل الیکشن کا مرحلہ شروع کیا جاتا ہے۔ راجیہ سبھا میں تلنگانہ کے ارکان کی تعداد 7 ہے جن میں سے چھ کا تعلق ٹی آر ایس سے ہے۔ ان میں سے پارلیمانی پارٹی لیڈر کے کیشو رائو کی میعاد ختم ہورہی ہے۔ قواعد کے مطابق ارکان اسمبلی رائے دہی کے ذریعہ نئے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں لیکن اسمبلی میں ٹی آر ایس کی عددی طاقت کے اعتبار سے دونوں نشستیں بلا مقابلہ ٹی آر ایس کے حق میں جائیں گی۔ 119 رکنی اسمبلی میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 104 ہے جبکہ مجلس 7 ، کانگریس 6 اور تلگودیشم و بی جے پی کا ایک ایک رکن ہے۔ مارچ 2018ء میں ریاست سے راجیہ سبھا کی تین نشستوں کے انتخاب میں کانگریس پارٹی نے سابق رکن پارلیمنٹ پی بلرام نائک کو میدان میں اتارا تھا لیکن مجلس کی تائید سے ٹی آر ایس تینوں نشستوں پر کامیاب ہوگئی۔ دنوں پارٹیوں میں مفاہمت کے نتیجہ میں خالی ہونے والی دونوں نشستوں پر ٹی آر ایس کی کامیابی کے امکانات یقینی ہے۔ دونوں نشستوں کے لیے پارٹی قائدین اپنی دعویداری پیش کررہے ہیں۔ اہم دعویداروں میں خود کے کیشور رائو سرفہرست ہیں جو دوسری مرتبہ راجیہ سبھا کی میعاد کے خواہاں ہیں۔ نظام آباد لوک سبھا حلقے سے شکس خوردہ سابق رکن پارلیمنٹ کویتا کا نام بھی امیدواروں کے طور پر پارٹی حلقوں میں گشت کررہا ہے۔ کھمم سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی، سابق رکن راجیہ سبھا ایم جگناتھم، سابق اسپیکر مدھوسودن چاری، کے آر سریش ریڈی اور پروفیسر سیتارام نائک کے نام بھی پارٹی حلقوں میں گشت کررہے ہیں۔ موجودہ راجیہ سبھا ارکان میں ایس سی ایس ٹی طبقات کی نمائندگی نہیں ہے لہٰذا مذکورہ طبقات کے قائدین چیف منسٹر سے نمائندگی کررہے ہیں کہ انہیں موقع دیا جائے۔