راجیہ سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی

   

نئی دہلی : راجیہ سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے مابین تعطل کے درمیان پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آخری دن آج ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ پورے سیشن کے دوران ایوان کی کارروائی ایک دن بھی خوش اسلوبی سے نہیں چل سکی اس پورا سیشن ہنگامے کی نذر ہوگیا ۔ آج صبح کے التوا کے بعد دوپہر دو بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، ڈی ایم کے کے تروچی سی[؟]شیوا نے دو دن پہلے دیے گئے اپوزیشن کے رولنگ کے سوال پر پوائنٹ آف آرڈر اٹھانا چاہا۔ چیئرمین نے پہلے کہا کہ اراکین ان کے فیصلے پر پوائنٹ آف آرڈر نہیں اٹھا سکتے ۔ بعد میں کانگریس کے مسٹر شیوا اور شکتی سنگھ گوہل کو سننے کے بعد انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا موضوع نہیں ہے جو اس ایوان کے دائرہ کار سے باہر ہو۔ اس پر اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی شروع کردی۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان چیئرمین نے کہا کہ ایوان کی رکن رجنی پاٹل کو بجٹ اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا تھا اور معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا۔ کمیٹی نے اس سلسلے میں ایک سفارش بھیجی ہے اور چیئرمین نے کمیٹی کو مانسون سیشن کے پہلے ہفتے تک کا وقت دیا ہے کہ وہ محترمہ پاٹل کی معطلی کی تحقیقات کرے اور ان کی معطلی جاری رہے گی ۔ خیال رہے کہ محترمہ پاٹل کو گزشتہ 10 فروری کو پارلیمانی بد نظمی کی وجہ سے بجٹ سیشن کے بقیہ حصے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا اور معاملہ تحقیقات کے لیے کمیٹی برائے استحقاق کو بھیج دیا گیا تھا۔